بے بسی اور بے حسی کی یہ تصویر آپ نے دیکھی ہے؟

ہفتہ 16 مارچ 2024
author image

ثنا ارشد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی منظر نامہ بدل رہا ہے جہاں بھوک اور مفلسی کے بدنما مناظر کے آگے سب بے بس ہیں۔ بے بسی سے بڑھ کر مگر اسے بے حسی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

ایک ویڈیو سوشل میڈیا کی زینت بنی جس میں فلسطین کے معصوم بچے ننگے پاؤں، ہاتھوں میں برتن اٹھائے کھانے کی لائن میں کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا تمہیں کچھ کھانے کو ملا؟ لیکن ہر بچہ بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہےکیونکہ ان میں سے ہر ایک کو کھانا نصیب نہیں ہوا، کچھ کے حصہ میں آئے تو صرف دلاسے۔

کہتے ہیں انسان اچانک نہیں مرتا بلکہ تنہا تھوڑا تھوڑا مرتا ہے، جب کوئی پیارا اسے چھوڑ جائے تو تھوڑا اور مر جاتا ہے لیکن بھوک اور مفلسی کے آگے تو موت لفظ بھی چھوٹا پڑ جاتا ہے اور وہ پل پل مرتا ہے۔خاص کر جب ملک حالتِ جنگ میں ہو اور ماں باپ بھی آخری سفر پر روانہ ہو چکے ہوں۔

یہ حالت فلسطین کے معصوم بچوں کی ہے جہاں اسرائیلی جارحیت نے معصوم بچوں سے مسکراہٹیں بھی چھین لی ہیں جبکہ دوسری جانب امت مسلمہ کے علمبردار تھالوں میں سجے مرغ پلاؤ کی دعوتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر بے اختیار منہ سے نکلتا ہےکہ زندگی ایسی بھی ہوتی ہے بھلا؟ بے بسی ایسی بھی ہوتی ہے بھلا؟ اور سب سے بڑھ کر بے حسی ایسی بھی ہوتی ہے کیا؟

سوشل میڈیا پر جاری یہ محض ایک ویڈیو نہیں بلکہ ایک عکس ہے غزہ میں بے بسی و بے کسی کا عکس، بھوکے بچوں کا عکس۔ یہ ان بچوں کی دم توڑتی امیدیں ہیں جنہوں نے خون کے سائے میں رمضان جیسے مقدس مہینے کا آغاز کیا، غزہ میں موت کا رقص جاری ہے اور اس رقص میں معصوم بچے بے بسی کی علامت بنے اپنے لیے کھانے کے متلاشی ہیں جو اس امید پر زندہ ہیں کہ طلوع ہونے والا سورج امن لے کر آئے گا ۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اسلامی ممالک اسرائیل کو لگام دینے کی بجائے صرف مذمتی بیانات سے کام چلا رہے ہیں۔ اب تو وہ مذمت کرنے سے بھی گئے۔ اور وہ یورپی ممالک جو کسی کتے اور بلی کے ’حقوق‘ کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادیتے ہیں۔ جن کا دن رات دنیا کو یہ درس دیتے گزرتا ہے کہ جانوروں کے حقوق ہوتے ہیں، وہ بھی خاموشی کی چادر اوڑھے ہے۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ سب اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ انہیں بھوک اور جنگ سےلڑتے بچے دکھائی نہیں دے رہے ، اس سب نے انسانی حقوق کے دعوےداروں کو بے نقاب کر دیا ہے ۔

اس دنیا کی سب سے زیادہ وحشت ناک چیز صرف اور صرف بھوک ہے۔ بھوک کے آگے تمام مذاہب انسانیت، تہذیب و تمدن بے بس ہیں۔ جب انسان بھوکا ہوتا ہے تو دنیا کی تمام چیزیں غیر محفوظ ہوجاتی ہیں حتی کہ باقی انسان بھی۔ صہیونی ریاست کھلم کھلا انسانیت کی تذلیل کر رہی ہے۔اسلامی ریاستوں نےمذمت، افسوس اور تعزیت کے علاوہ اور کیا بھی تو کیا ؟ غزہ تباہی کی داستان بن چکا ہے لیکن اسلامی ممالک صہیونیت کے خوف سے اسرائیلی جارحیت کیخلاف عملی اقدامات کرنے سے گھبراتے ہیں۔

اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 31ہزار سے تجاوزکر چکی ہے۔ شہید ہونے والوں میں بچوں اور خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ لیکن اتنی کثیر تعداد میں شہادتوں پر کہیں کوئی قیامت نہیں آئی۔

فلسطینی اب بھی امید کی روشنی دیکھ رہے ہیں کہ خاموش تماشائی دنیا میں کہیں سے کوئی مسیحا آئے گا اور ان کی داد رسی کرے گا لیکن اُن کی آواز اُن کے قریب ترین مسلمان ہمسائے ملک بھی سُننے کو تیار نہیں۔

بھوک ،افلاس، غربت اوربے روزگاری کے درمیان گزرنے والی زندگی کو اگر زندگی کہا جائے تو موت کیسی ہو گی؟ریاستیں اگر ظالم کے ساتھ ہیں تو فلسطینیوں کو اس بوجھ سے آزاد کون کرائے گا ؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تین گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ