اسلام آبادہائیکورٹ بار کا سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے خط کی شفاف انکوائری کا مطالبہ

بدھ 27 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ہائیکورٹ کے 6 ججز کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کرتےہوئے کسی بھی ادارے کی دوسرے ادارے میں مداخلت کی بھر پور مذمت کی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ کے 6 ججز کی جانب سے انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے بے جا مداخلت کی بابت مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، اسلام آباد با ئیکورٹ بار ملک میں قانون کی حکمرانی اور بالادستی اور آزاد اور خود مختار عدلیہ پر یقین رکھتی ہے۔

چیف جسٹس سے مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کروائی جائے اور جو لوگ اس معاملے میں ملوث ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، وہ قومیں ترقی نہیں کرسکتیں جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو۔

اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ ہائیکورٹ بار کسی بھی ادارے کی دوسرے ادارے میں مداخلت کی بھر پور مذمت کرتی ہے، آزادانہ قانون اور آئین کے مطابق فیصلوں کو بے خوف وخطر یقینی بنایا جائے، ججز نے دلیری اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، اسلام آبادہائیکورٹ بار اس اقدام کو سراہتی ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے مقدمے میں اہم حکم، ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

ایران پر حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ مندی کی نذر

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں مفت علاج اور صحت کے 4 بڑے منصوبوں کا جائزہ

جمعہ کے روز آن لائن کلاسز کی اجازت، وزیر تعلیم پنجاب کا اعلان

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟