سپریم جوڈیشل کونسل ایجنسیوں کے نہیں، ججوں کے محاسبے کا فورم ہے، سینیٹر عرفان صدیقی

بدھ 27 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے خط پر تبصرہ  کرتے ہوئے حکمراں جماعت سے وابستہ سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ان ججوں نے اپنی شکایت غلط جگہ پہنچائی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل ایجنسیوں کے نہیں، ججوں کے محاسبے کا فورم ہے۔

اپنے ایک بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ 5 سال تک جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حق میں ایک لفظ تک نہ بولنے والوں کے ضمیر اچانک کیوں جاگ گئے ہیں، 9 مئی کے ملزموں کے تحفظ کے لئے مخصوص جماعت کی سہولت کاری کی جا رہی ہے، ان جج صاحبان کو دھمکیاں دینے یا دباؤ ڈالنے والے کرداروں کو سزا دینے کا اختیار خود ان ججوں کے پاس تھا۔

’انہیں چاہیے تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرح برملا ایسے کرداروں کا نام لیتے اور عدلیہ پر اثر انداز ہونے کے الزام میں انہیں اپنی عدالتوں میں طلب کرتے، بظاہر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج نے اپنے سے جونیئر ججوں پر اثر انداز ہوکر یہ خط لکھوایا ہے جس کا محرک کوئی اور ہے۔‘

سینیٹر عرفان صدیقی  کا کہنا ہے کہ انہی ججوں کا ایک ساتھی جج، حق گوئی کے جرم میں 5 سال عدالتوں کے دھکے کھاتا رہا،کوئی اس کے حق میں ایک لفظ تک نہیں بولا، ایک آدھ جج کے سوا سب نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا سوشل بائیکاٹ کیے رکھا، آج اس کے حق میں آنے والے فیصلے کی آڑ لے کر وہ ایک سیاسی ایجنڈے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

’یکم اکتوبر 2018 کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی معزولی کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نواز شریف کے مقدمات سے متعلق ہر بینچ کا حصہ تھے ،انہوں نے کسی ایک مقدمے میں بھی نواز شریف کو ریلیف نہیں دیا، وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن بنے رہے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ جنرل فیض حمید کی 2 سال کی محنت ضائع نہ ہو اور نواز شریف یا مریم انتخابات سے پہلے جیل سے باہر نہ آ سکیں۔‘

سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ’ضابطہ اخلاق‘ کی خلاف ورزی کی سزا دی گئی تھی، درحقیقت ضابطہ اخلاق کی دھجیاں ان جج صاحبان نے اڑائی ہیں جو 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں سنائے جانے کے حتمی مرحلے میں انتظامیہ اور ایجنسیوں پر سوالات اٹھا کر ایک مخصوص جماعت کے سہولت کاروں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز