آئی ایم ایف پروگرام عوام کے لیے مسائل ہی لے کر آتا ہے، اعظم نذیر تارڑ

جمعرات 2 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وقاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کہتا ہے ٹیکس چوری روکیں، غیر ضروری اخراجات کو ختم کریں، ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آئیں اور ٹیکس سرکل کو بڑھائیں۔ آئی ایم ایف ہمیں بجلی چوری روکنے اورمحکموں کی گورننس ٹھیک کرنے کا کہتا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام عوام کے لیے مسائل ہی لے کر آتا ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ فاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے سب سے زیادہ ایف بی آر کی بریفنگ لی ہیں، وزیر اعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کا بیڑا اٹھایا ہے، ایف بی آر اصلاحات کا ایجنڈا وزیراعظم کی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ پارلیمنٹ نے پہلا قانون ٹیکس اصلاحات سے متعلق پاس کیا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان معاشی بحران سے گزررہا ہے، باتیں کرنے یا پالیسیاں بنانے سے مالی مسائل حل نہیں ہوں گے، بجلی کی چوری روکنے کی کوشش کررہے ہیں، 50، 50ارب کے لیے بڑی مشکلات سے گزرتے ہیں۔ ہمیں انکم ٹیکس کی عدم ادائیگی، چوری اور دیگر مسائل کا سامنا ہے، 27سو ارب کے کیسز لٹکے ہوئے ہیں۔

ٹیکس چوری، انکم ٹیکس نا دینا جیسے ایشوز ہیں

انہوں نے کہا کہ دوسرا معاملہ ٹیکس سے متعلق عدالتوں میں اسٹے آرڈرز سے متعلق ہے، 2ہزار 700ارب روپے سے زائد ٹیکس کیسز عدالتوں میں زیرالتوا ہیں، زیرالتوا کیسز کے فوری طور پر فیصلے ہونے چاہییں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پچھلے دنوں ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر تبادلے ہوئے، یہ تبادلے اوپر سے شروع ہوئے اور سلسلہ نیچے تک جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی تعیناتی کا اختیار حکومت اور ادارے کے پاس ہے۔ ان تبادلوں میں سزا دینے کا تاثر غلط ہے، کسی کو کرپشن کی وجہ سے نہیں نکالا، جن لوگوں کو سائیڈ لائن رکھا گیا ان کو موقع دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے ریفارمز کا ایجنڈا وزیراعظم کی ترجیحات میں سے تھا، صرف پالیسی بنانے سے کچھ نہیں ہوگا ایکشنز ضروری ہیں، ایف بی آر کے ڈھانچے میں رہتے ہوئے گورننس کرنے کا معاملہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹرانسفرز کسی ڈسپلن کی بنیاد پر نہیں ہوئی ہیں، یہ تبادلے کارکردگی کی بنیاد پر ہوئے ہیں، وزیر اعظم کا عزم ہے کہ معاشی بحالی میں ایف بی آر کا بہت عمل دخل ہے اور اگر ٹیکس نیٹ بڑھے گا تو لوگوں کا بوجھ کم ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

سلیم خان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، گھر کب جائیں گے؟

نائیجیریا میں خودکش دھماکوں کی لہر، 23 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

افغان طالبان کی پروپیگنڈا مہم جاری، شہری علاقوں میں دہشتگردوں کو پناہ دینے لگے

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو: نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے، خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا