سندھ ہائیکورٹ کا تھانوں میں کاروباری سرگرمیاں فوری ختم کرنے کا حکم

ہفتہ 4 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں پولیس تھانوں میں قائم دکانیں اور دیگر کاروباری سرگرمیاں فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیدیا۔

پولیس ویلفیئر کے نام پر تھانوں میں کاروباری سرگرمیاں کرنے کے حوالے سے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس ظفر احمد راجپوت نے پولیس تھانوں کی زمین پر قائم دکانوں اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے اور حکم امتناع کے باوجود تھانوں کی زمین پر قائم دکانیں ختم کرنے کا بھی حکم دیا۔

دوران سماعت سندھ پولیس نے اپنی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائی۔ اس رپورٹ کے مطابق، سندھ پولیس صوبے میں مجموعی طور پر 32 مختلف مقامات پر کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہے، جن میں پیٹرول پمپس، دوکانیں، فلیٹس اور دفاتر شامل ہیں۔

سندھ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، سندھ پولیس کی زمینوں پر 4 پیٹرول پمپس اور 1397 دیگر کمرشل پراپرٹیز ہیں، جن میں 304 دکانیں، 66 فلیٹس، 8 گودام اور 62 دفاتر کراچی میں ہیں۔ ان میں سے 70 دکانیں کراچی کے ضلع وسطی جبکہ ایک پیٹرول پمپ ملیر میں پولیس کی زمین پر قائم ہے۔

حیدرآباد میں ایک پیٹرول پمپ، 247 دکانیں، 271 فلیٹس، 29 گودام اور 100 دفاتر ہیں۔ اسی طرح بدین میں 51 دکانیں، میر پور خاص میں 4 دکانیں، دادو میں 57 دکانیں جبکہ نواب شاہ  میں 169، سکھر میں 117، خیرپور میں 121 دکانیں ہیں۔ اس کے علاوہ گھوٹکی، لاڑکانہ، کشمور، جیکب آباد میں بالترتیب 70، 62، 27 اور 92 دکانیں ہیں۔

’پولیس بلیک میل کرنا چاہتی ہے‘

یاد رہے کہ سندھ ہائیکورٹ میں ایک دوکاندار کی درخواست زیر سماعت ہے جس میں اس نے مؤقف اپنایا تھا کہ اسے جس دکان کو خالی کرنے کا کہا جا رہا ہے وہ وہاں قابض نہیں بلکہ کرایہ دار ہے اور پولیس 15 سے 20 گنا کرایہ بڑھانے کے لیے اسے بلیک میل کرنا چاہتی ہے۔

دکاندار کے وکیل محمود عالم رضوی ایڈووکیٹ نے پولیس اور دکانداروں کے درمیان کرایہ داری کا معاہدہ عدالت میں پیش کرتے ہوئے دلائل دیے کہ یہ 11 ماہ کا کرایہ داری کا معاہدہ ہے جس کی سال بہ سال تجدید ہوتی رہتی ہے، درخواست میں ہوم سیکریٹری ،آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سینٹرل کو فریق بنایا گیا ہے۔

تھانوں میں کمرشل سرگرمیاں کرنے پر عدالت نے آئی جی سندھ پر برہمی کا اظہار کیا اور صوبے بھر کے تھانوں میں کاروباری سرگرمیاں فوری ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ پولیس کی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ظفر احمد راجپوت نے پولیس سے جامع رپورٹ طلب کی تھی جس میں پوچھا گیا تھا کہ کیا پولیس تھانوں میں کمرشل سرگرمیاں جاری ہیں اور بتایا جائے کہ تھانوں میں جاری کاروباری سرگرمیاں کب تک ختم ہوجائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چھوٹے دکانداروں کے لیے ایف بی آر کی نئی اسکیم، ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس پر رضاکارانہ رجسٹریشن

چین ’مصنوعی سورج‘ بنانے کے مزید قریب، 582 ٹن وزنی فیوژن مقناطیس کا کامیاب تجربہ

راولاکوٹ میں ملک دشمنی کا اظہار کرنے والوں کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف

ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

ایپل نے انویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز دوبارہ اپنے نام کرلیا

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی