کیلاشی کلچر کا تحفظ، مذہبی تہوار ’چیلم جوشٹ‘کے موقعے پر دفعہ 144نافذ

اتوار 12 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چترال انتظامیہ نے کیلاش قبیلے کے کلچر اور مذہبی رسومات کے تحفظ کے پیش نظر وادی میں دفعہ نافذ کر دی ہے۔

کیلاش قبیلے کے مذہبی  تہوار چیلم جوشٹ  2024 کے موقع پر ڈپٹی کمشنر/ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوئر چترال محمد عمران خان کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ دفعہ آج 12 مئی سے  17 مئی 2024 تک نافذ العمل رہے گی۔

دفعہ 144 کے ضمن میں جاری ہدایت نامے کے مطابق بغیر اجازت کے موٹر سائیکل سواروں  کے کیلاش وادیوں  میں داخلے  پر پابندی ہوگی۔

کھلے چھت والی سوزوکی وین  وغیرہ میں سوار ان افراد پر پابندی ہوگی جو رات کھلے آسمان تلے گزارتے اور بغیر اجازت کے کھلی جگہ آگ جلا کر کوکنگ وغیرہ کرتے اور ماحول کو آلودہ کرتے ہیں۔

باقاعدہ رجسٹرڈ  ٹوریسٹ گائیڈ کے بغیر سیاحوں کا علاقے میں داخلے اور گھومنے پھرنے پر بھی پابندی ہوگی، اسی کیساتھ ہی بغیر اجازت کے کیلاش قبیلے کے  خواتین کی ویڈیو گرافی اور  ت

صاویر بنانے پر پابندی کا اطلاق ہوگا۔

ہدایت نامے کے مطابق عائد کی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔ انتظامیہ کی جانب سے عوام الناس اور سیاحوں سے گزارش کی گئی ہے کہ علاقے کے کلچر اور مذہبی رسومات کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے