صحافیوں پر حملوں،اغوا کی دوبارہ تفتیش کی جائے، سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ جاری

بدھ 15 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ  نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف از خود نوٹس  کی 13 مئی کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

حکمنامے کے مطابق سینیئر صحافی ابصار عالم، مطیع اللہ جان اور اسد طور سے متعلق رپورٹس پیش کی گئیں تاہم ان پر حملوں سے متعلق پولیس رپورٹ اور تفتیش مایوس کن ہے۔

عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ پولیس افسران صحافیوں پر حملوں اور اغوا کے معاملات کی درست تفتیش نہیں کر رہے اور ان کی رپورٹس سے تفتیشی افسران کی نااہلی ظاہر ہوتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ مطیع اللہ جان اور اسد طور سے چھینے گئے موبائل فون تاحال ریکور نہیں کیے گئے۔

حکمنامے میں عدالت کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد نے بھی پولیس تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور تحقیقاتی ٹیم تبدیل کرنے بارے آگاہ کیا۔

عدالت نے امید ظاہر کی کہ پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تبدیل کر کے درست تفتیش کی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اسد طور پر حملہ آوروں کے خاکے انعامی رقم کے ساتھ اخبارات میں شائع کیے جائیں۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے سے متعلق درخواستیں دائر ہونے کا ریکارڈ جمع کرایا جائے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کا چھپ کر علاج کروانا قابل قبول نہیں، علیمہ خان پھٹ پڑیں

ایران میں ڈالر کی کمی پیدا کر کے ریال کو گرا دیا گیا، امریکی وزیر خزانہ کا اعتراف

راجن پور اور کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کا صفایا، 500 سے زائد مجرموں نے ہتھیار ڈال دیے، مریم نواز

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟