ملتانی دوست اب تک آپ کو آم کیوں نہیں بھیج سکے؟ وجہ جانیں

منگل 11 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مئی سے اگست تک سال کا وہ حصہ ہوتا ہے جب ملک بھر سے لوگ اپنے ملتانی دوستوں سے آم بھیجنے کی فرمائش کرتے ہیں۔ امسال جون کے وسط تک بھی ملتان کے لوگ اپنے دوستوں کو آم ارسال نہیں کر پائے کیونکہ ابھی تک آم کی فصل اس طرح تیار نہیں ہوئی ہے جیسی ماضی میں ہوجایا کرتی تھی اور اس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔

پچھلے کچھ برسوں سے دنیا کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور اسی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں بھی رونما ہو رہی ہیں جس سے فصلوں کی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔

سورج کی تپش سے آم جل چکے ہیں

مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں تعینات سائنٹیفک افسر عابد حمید نے وی نیوز کو بتایا کہ کسی بھی فصل کی کاشت میں موسم اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے اور بہت سی فصلیں سردیوں میں لگائی جاتی ہیں جو گرمیوں میں کٹائی کے لیے تیار ہو جاتی ہیں اور آم کی کاشت کا موسم بھی سردیوں کے اختتام پر شروع ہوتا ہے جبکہ گرمیوں کے ابتدائی مہینوں میں یہ پھل پک جاتا ہے۔

عابد حمید نے کہا کہ معیاری آموں کی پیداوار کے لیے مناسب درجہ حرارت 23 سے 33 ڈگری کے درمیان ہوتا ہے لیکن رواں برس پارہ 50 ڈگری کی حد تک چلا گیا جس کی وجہ سے کئی آم ’سن برن‘ کا شکار ہو کر ضائع ہو چکے ہیں جس کے باعث اس سال آموں کی پیداوار میں نمایاں فرق نظر آنے کے امکانات ہیں۔

دیگر علاقوں میں بھی آم تیار نہیں ہوئے

صوبہ پنجاب میں آم کی زیادہ تر کاشت ملتان، بہاولپور، شجاع آباد، وہاڑی، مظفرگڑھ، ڈی جی خان، رحیم یار خان، خانیوال اور لاہور ڈویژن میں کی جاتی ہے اور یہ صوبہ ملکی پیداوار کا 79 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے لیکن اس سال اب تک آم کی فصل اس طرح تیار نہیں ہوئی جس طرح ماضی میں ہوتی تھی۔

آم ایک طرف سے کالے پڑ گئے ہیں

محمد نبیل مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بطور فیلڈ اسسٹنٹ کام کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ آم کی فصل اس بار موسمی شدت کی زد میں آ کر خراب ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آم ایک جانب سے کالے نشان پڑنے شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی کے سبب آم اوپر کے حصے سے پکنا شروع ہو جاتا ہے اور اس کا رنگ تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے جبکہ اس کا آدھا حصہ کچا رہ جاتا ہے۔

آم کی پیداوار میں 50 فیصد کمی

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث موسم سرما سکڑتا جا رہا ہے اور دوسری جانب بہار کا موسم بھی موسم گرما میں بدل رہا ہے۔

موسم بہار شروع ہونے کے ساتھ ہی سرد لہر یا کئی علاقوں میں گرمی کی لہر کا سامنا پچھلے کچھ عرصے میں معمول بن چکا ہے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے طارق خان آم کی پروسیسنگ اور ایکسپورٹ کے کام سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سالوں میں آم کی پیداوار لگ بھگ 1.6 ملین ٹن  تھی اور اب اندازہ ہے کہ پیداوار اس سال گھٹ کر 1.2 ملین ٹن تک آسکتی ہے۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال آم کی مجموعی پیداوار میں 50 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے اور اس کی بڑی وجہ موسم میں غیر معمولی تبدیلیاں ہیں۔

ان تبدیلیوں میں جنوری اور فروری کے مہینوں میں سورج کا نہ نکلنا، اپریل میں کولڈ ویو کا اثر، تیلہ کی افزائش، ہیٹ ویو اور اس کے فوراً بعد تیز آندھیوں کا چلنا شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں آم کی ہر قسم پر ہی اثر پڑا ہے اور ان میں سندھڑی اور چونسہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی سینیٹ انتخاب میں ووٹ تقسیم کرنے کا مبینہ کھیل، ایف بی آئی نے تحقیقات شروع کردیں

اسلام آباد میں کرکٹ ٹیموں کی آمدورفت، متبادل راستوں کا اعلان

پاکستان کا اقوامِ متحدہ سے امن مشنز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 6 نکاتی اصلاحاتی فارمولے اور بجٹ کی منصفانہ فراہمی کا مطالبہ

لڑکیوں کو حقیقی زندگی میں ’ابوبکر‘ چاہیے تو بیٹوں کی تربیت بھی ایسی کرنا ہوگی، سعدیہ امام

پی ایل ایل نے ایل این جی خریداری کے لیے بولیاں جمع کرانے کی تاریخ میں 4 روز کی توسیع کر دی

ویڈیو

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

10 روپے کا نوٹ بند ہونے سے شادیوں کی رونق اور محنت کشوں کی آمدن متاثر ہونے کا خدشہ

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟