لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی 11 درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں

جمعرات 13 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے جج سے کیسز دوسری عدالت ٹرانسفر کروانے کی حکومتی درخواستیں بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کردی ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت سے کیسز دوسری عدالت میں منتقل کرنے کے لیے پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ جج کے خلاف پراسیکیوشن کا ریفرنس خارج کردیا گیا ہے، پراسیکیوشن نے عدالت کا وقت ضائع کیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو جج آپ کو پسند نہ آئے تو آپ اس کے خلاف ریفرنس دائر کردیتے ہیں، بے بنیاد الزام لگا کر ججز کو پریشرائز کررہے ہیں، حکومت میں بیٹھے لوگ یہ کررہے ہیں جو کہ بہت افسوسناک ہے۔

چیف جسٹس نے کہا ’نہ آپ کو لاہور ہائیکورٹ کے ججز پر اعتبار ہے نہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز پر اعتبار ہے، کبھی جج کے گھر پر حملہ ہوجاتا ہے، کبھی دھمکی دی جاتی ہے، مذاق ہی بنا دیا ہے۔‘

عدالت نے پراسکیوشن کی انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی سے کیسز ٹرانسفر کی 11 درخواستیں 22 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ خارج کر دی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن