مسلسل 4 بار کمی کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں کتنے بڑے اضافے کا امکان ہے؟

جمعرات 27 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، یکم جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 7 سے 8 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مسلسل 4 بار قیمتوں میں کمی کی گئی تھی لیکن اب عالمی منڈی میں نرخ بڑھنے سے قیمتوں کو بھی بڑھانے کے تخمینے لگائے جا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران عالمی منڈی میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 4.4 اور 5.5 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ ٹیکس کی شرحوں اور دیگر حساب کتاب کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرول کی قیمت 7 روپے اور ڈیزل کی قیمت 8.5 روپے فی لیٹر بڑھنے کا امکان ہے۔

یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر حکومت نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ موجودہ 60 روپے فی لیٹر سے زیادہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا انتخاب کرتی ہے تو قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

حکومت نے فنانس بل 2024 میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد کو 80 روپے فی لیٹر تک بڑھا دیا، تاکہ گزشتہ مالی سال کے دوران 960 بلین روپے کے تخمینے کی وصولی کے مقابلے میں 1.28 ٹریلین روپے اکٹھے کیے جا سکیں، جو کہ 869 ارب روپے کے بجٹ ہدف سے تقریباً 91 ارب روپے زیادہ ہے۔

اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 13 جون کو اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل یکم مئی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی، جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں گراوٹ تھی۔

اس طرح پٹرول کی قیمت 30 اپریل کے 294 روپے کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً 259 روپے پر آ گئی، ڈیزل کی قیمت اپریل کے مقابلے میں تقریباً 22 روپے فی لیٹر کم ہو کر 268 روپے پر آئی۔

خیال رہے اس وقت حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 77 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے، تاہم پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے۔

تاہم، حکومت دونوں مصنوعات پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی چارج کرتی ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 17 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کرتی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت پیٹرول فی لیٹر قیمت 258.16 روپے اور ڈیزل 267.89 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔

پیٹرولیم اور بجلی کی قیمتیں مہنگائی کے اہم محرک رہے ہیں۔ پیٹرول بنیادی طور پر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیہ گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ براہ راست متوسط ​​اور نچلے متوسط ​​طبقے کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔

دوسری طرف ڈیزل کی قیمتوں کو انتہائی مہنگائی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں، ٹرینوں، اور زرعی انجن جیسے ٹرک، بسیں، ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور تھریشر میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔

پیٹرول اور ایچ ایس ڈی بڑے ریونیو اسپنر ہیں، جن کی ماہانہ فروخت تقریباً 7 سے 8 لاکھ ٹن ہے جبکہ مٹی کے تیل کی مانگ صرف 10ہزار ٹن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ترک خاتون اول کی ‘زیرو ویسٹ تحریک’ عالمی سطح پر مقبول، اقوام متحدہ میں خصوصی دن منایا گیا

بھارتی اسٹاک ایکسچینج کو دھچکا: سرمایہ کاروں کے 10 لاکھ کروڑ روپے ایک گھنٹے میں ڈوب گئے

بغیر نوٹیفیکیشن پڑھے بیکری بند کروانا اے سی صاحبہ کو مہنگا پڑگیا

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل، ملک بھر میں بارشیں، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟