مون سون میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے کن علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے؟

جمعرات 11 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک بھر میں مون سون کی بارشوں کا آغاز جولائی کے پہلے ہفتے میں ہوچکا ہے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے رواں برس مون سون کی زیادہ بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے جبکہ پی ڈی ایم اے کے مطابق اس بار پنجاب میں 35 فیصد سے زائد بارشیں متوقع ہیں۔

واضح رہے کہ پی ڈی ایم اے کے مطابق جولائی کے شروعات میں 15 سے 50 ملی میٹر تک بارش کا امکان ظاہر کیا گیا تھا جبکہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں 25 سے 35 ملی میٹر اور جولائی کے چوتھے ہفتے میں50 سے 70 ملی میٹر تک بارش کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بڑے شہروں میں ندی نالوں کے بھر جانے کے باعث اربن فلڈنگ کے خدشات بھی ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے کن علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے؟

راولپنڈی میں اربن فلڈنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پی ڈی ایم اے کے ترجمان مظہر حسین نے بتایا کہ راولپنڈی میں ایک حد سے زیادہ بارش کی صورت میں اربن فلڈنگ کے خدشات بڑھ جائیں گے، انتظامیہ نے نالا لئی کی صفائی کردی ہے تاکہ اربن فلڈنگ کے خدشے کو کم کیا جا سکے۔

’فی الحال تو نالا لئی میں طغیانی کے خدشے کو مد نظر رکھتے ہوئے ریسکیو 1122 سمیت دیگر اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، ریسکیو ٹیمیں اپنی ڈیوٹیز انجام دے رہی ہیں، غیر معمولی بارشوں کی صورت میں نالا لئی کے اطراف علاقے کٹاریاں، گوالمنڈی، مریڑ اور پیر ودھائی کے علاقوں میں سیالبی صورتحال درپیش ہوسکتی ہے۔‘

اسی طرح مارگلہ، آئی ایٹ اور دیگر اسلام آباد کے سیکٹرز سے نکلنے والے برساتی نالے بھی آ گے جا کر نالا لئی میں شامل ہوتے ہیں شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیلابی صورتحال کے سبب کیا راولپنڈی ڈوب سکتا ہے؟

’جڑواں شہروں کے نالے آپس میں منسلک ہیں اور نالا لئی میں طغیانی کے باعث قریبی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کوئی بھی فرد کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال میں ریسکیو 1122 پر فوری رابطہ کر سکتا ہے۔‘

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز یعنی بدھ کی صبح سے ہونے والی بارش کی پیمائش کی جائے تو سید پور گاوں میں ایک گھنٹے میں 43 ملی میٹر، گولڑہ میں 21 ملی میٹر، پی ایم ڈی میں 39 اور شمس آباد میں 33 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ آج ہونے والی بارش کے سبب سیونتھ ایونیو، جی 6 انڈر پاس میں بارش کا پانی جمع ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

محکمہ موسمیات کیا کہتا ہے؟

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل مہر صاحبزاد خان نے اسلام آباد میں اربن فلڈنگ کے حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد میں ابھی تو بارشیں نارمل ہی ہیں لیکن جولائی  کے تیسرے اور چوتھے ہفتے میں معمول سے زیادہ بارشوں کا خدشہ ہے۔

’اس وقت اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر معمول سے ہٹ کر بارشیں ہوتی ہیں تو اس صورتحال میں مارگلہ سے نکلنے والے برساتی نالوں کی وجہ سے اسلام آباد میں اربن فلڈنگ ہوسکتی ہے، لیکن فی الحال تو ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آ رہی۔‘

محکمہ موسمیات کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جڑواں شہروں میں سب سے بڑا مسئلہ نالا لئی کا ہے، جس سے سب سے زیادہ راولپنڈی متاثر ہوتا ہے۔ ’اسلام آباد کے کچھ نالے بھی اسی سے منسلک ہیں تو یہاں بھی اربن فلڈنگ کا خطرہ ہوتا ہے لیکن اس سے پہلے اربن فلڈنگ سے سب سے زیادہ راولپنڈی متاثر ہوسکتا ہے۔‘

واضح رہے کہ مون سون کے آغاز سے کچھ ہفتے قبل کلائمیٹ ایکشن سینٹرکے ایک سیشن میں چیف میٹرولوجسٹ نے کراچی سمیت سندھ میں رواں برس بھی 2022 میں آنے والے سیلاب کے یا اس سے زیادہ پیمانے کی بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے اس کے ممکنہ اثرات سے خبردار کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تمغہ امتیاز یافتہ شوٹر محسن نواز کا اپنا اعزاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نام کرنے کا اعلان

پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت برقرار، حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

آزاد کشمیر میں 9 جون کے احتجاج سے قبل ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم تنظیم قرار، نوٹیفکیشن جاری

رومانیہ کی بندرگاہ پر بحری ڈرون دھماکا، یوکرین کا روس پر سگنل جام کرنے کا الزام، کشیدگی میں اضافہ

مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

ویڈیو

گلگت بلتستان الیکشن: سیاسی گہما گہمی عروج پر، عوام جمہوری عمل کے لیے پرجوش

بجٹ میں ریلیف یا مہنگائی کا طوفان؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈلاک برقرار

اسلام آباد کے لیے جامع اصلاحاتی پیکیج تیار، دارالحکومت کا اپنا وزیراعلیٰ بھی زیر غور

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟