برطانوی سائنسدانوں کا بڑا اقدام: بار بار اسقاطِ حمل کی وجوہات جانچنے والا نیا ٹیسٹ تیار

جمعرات 26 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں سائنسدانوں نے نئی تحقیق کی جو ان خواتین کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے جن کے رحم کی اندرونی سطح (womb lining) میں غیرمعمولی تبدیلیوں کے باعث بار بار حمل ضائع ہو جاتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ان خواتین کے لیے نئی امید بن سکتی ہے جو برسوں سے اس اذیت سے گزر رہی ہیں۔

یونیورسٹی آف وارک کے محققین کے مطابق کچھ خواتین کے رحم کی جھلی وہ ردِعمل نہیں دکھاتی جو ایک صحت مند حمل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ جب رحم جنین کو قبول کرنے اور اس کی پرورش کے لیے درکار تبدیلی نہیں کرتا، تو حمل ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے کلرک کا اسقاط حمل کی دوا دینے والی ڈاکٹر پر جرمانے کی کارروائی سے انکار

اس تحقیق کے نتیجے میں ایک ٹیسٹ تیار کیا گیا ہے جو رحم میں ہونے والے ان ردِعمل کو جانچ سکتا ہے کہ آیا وہ مناسب ہیں یا نہیں۔ یہ ٹیسٹ اس وقت ٹامی کے نیشنل سینٹر فار مس کیرج ریسرچ میں آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا جارہا ہے اور اب تک ایک ہزار سے زیادہ خواتین پر آزمایا جا چکا ہے۔ اس ٹیسٹ کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ کسی خاتون کا رحم حمل کے لیے موزوں ہے یا نہیں، تاکہ اس کے مطابق دوا تجویز کی جاسکے۔

چارلی بیٹی نامی ایک خاتون، جو 4 سالوں میں کئی بار ابتدائی حمل ضائع ہونے کے صدمے سے گزریں، اس ٹیسٹ سے فائدہ حاصل کرنے والی پہلی خواتین میں شامل ہیں۔ ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ ان کے رحم کا ماحول حمل کے لیے سازگار نہیں تھا۔ انہیں 3 ماہ تک ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا اسٹاگلیپٹن دی گئی، جس کے بعد وہ کامیابی سے حاملہ ہوئیں۔ اب ان کی بیٹی جون 9 ہفتے کی ہوچکی ہے اور اُن کے لیے یہ سب کچھ کسی معجزے سے کم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دوران حمل شرح اموات میں خطرناک اضافہ ، عالمی ادارہ صحت نے خبردار کردیا

تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ مزید ایسی ادویات تلاش کی جائیں جو رحم کے اندرونی ردِعمل کو بہتر بنا سکیں، تاکہ بار بار حمل ضائع ہونے سے بچا جاسکے۔ اس وقت بیشتر ادویات حاملہ خواتین پر آزمائی نہیں جاتیں، جس کی وجہ سے ایسے علاج محدود ہیں۔

ماہرین امید کر رہے ہیں کہ اس ٹیسٹ کو مستقبل میں پورے برطانیہ میں عام کردیا جائے گا تاکہ ہر وہ خاتون جو اس مسئلے سے دوچار ہے، فائدہ اٹھا سکے۔ تاہم اس وقت کلینک میں جگہ محدود ہے اور مریضوں کو ٹیسٹ کے اخراجات خود برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تحقیق کی روشنی میں اس ٹیسٹ کو قومی سطح پر مفت فراہم کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات

سعودی اور پاکستانی وزیرِ داخلہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، حملوں کی مذمت اور تعاون بڑھانے پر اتفاق

مقامی پتھروں سے تیار ہونے والا قدیم شہر ٹیکسلا کا مشہور لنگری

کیا افغان مہاجرین کے بعد اب ایرانی شہری بھی بڑی تعداد میں پاکستان آئیں گے؟

سفارت کاری صرف معاہدوں تک محدود نہ رہے: پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا نیا باب

ویڈیو

مقامی پتھروں سے تیار ہونے والا قدیم شہر ٹیکسلا کا مشہور لنگری

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ، شہریوں کو لمبی لائنوں کا سامنا

کیا بھارت خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ توازن کھورہا ہے؟

کالم / تجزیہ

توانائی کا ممکنہ عالمی بحران اور اس سے بچت کی صورت

ہم احتجاج میں اپنے ملک کو نقصان کیوں پہنچاتے ہیں؟

ایران کی نظروں میں اب ہمارا بھارت کتنا مہان رہ سکے گا