لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے 12 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج خالد ارشد نے 7 گھنٹے کی طویل سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو سنا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں عمران خان کی جناح ہاؤس حملہ سمیت لاہور میں درج 9 مئی کے مقدمات میں گرفتاری ڈال دی گئی
عمران خان اڈیالہ جیل سے بذریعہ واٹس ایپ ویڈیو کال کے ذریعے حاضر ہوئے اور اپنے بیان میں 9 مئی کے مقدمات کی ذمہ داری لینے سے انکار کردیا۔
عمران خان نے کہاکہ مجھ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، کیونکہ میں 9 مئی کو وہاں موجود نہیں تھا، میں نے ہمیشہ کہاکہ پرامن احتجاج کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے 9 مئی کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کے لیے درخواست دی ہوئی ہے، مجھے معافی مانگنے کا کہا جارہا ہے مگر میرا موقف ہے کہ جنہوں نے ظلم کیا وہ معافی مانگیں۔
یہ بھی پڑھیں توشہ خانہ نیا ریفرنس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
دوران سماعت جج خالد ارشد نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے ریماکس دیے کہ میں نے آپ کو سن لیا ہے، فیصلہ قانون کے مطابق ہی کروں گا۔














