انسٹاگرام کی جانب سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے حوالے سے پوسٹس شیئر کیے جانے پر پابندی کے باعث ترکیہ نے ملک بھر میں انسٹاگرام پر پابندی عائد کردی ہے۔
ترکیہ کی نیشنل کمیونیکیشن اتھارٹی کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ترکیہ میں انسٹاگرام کو بلاک کردیا گیا ہے، انسٹاگرام بلاک کرنے کا نوٹیفکیشن ترک انفارمیشن ٹیکنالوجیز اور کیمونیکیشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک اور انسٹاگرام کی بندش کیوں؟،نیا ٹل کا پیغام سامنے آ گیا
یاد رہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے حوالے سے ترکیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے امریکا کی جانب سے انسٹاگرام پر سنسرشپ کا الزام لگایا تھا۔

ترک ایوان صدر کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر فرحتین التون نے بدھ کے روز انسٹاگرام پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ ’لوگوں کو شہید ہنیہ کے لیے تعزیتی پیغامات شائع کرنے سے روک رہی ہے۔’
فرحتین التون نے کہا ’ہم ان پلیٹ فارمز کے خلاف اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کرتے رہیں گے، جنہوں نے بارہا دکھایا ہے کہ وہ استحصال اور ناانصافی کے عالمی نظام کی خدمت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم ہر موقع اور ہر پلیٹ فارم پر اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام پر بچوں کو فحش ویڈیوز تجویز کیے جانے کا انکشاف
جس کے بعد ترکیہ نے اب انسٹاگرام پر ملک بھر میں پابندی عائد کردی ہے۔

یاد رہ کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو بدھ کے روز تہران میں قتل کر دیا گیا تھا، حماس اور ایران نے ان کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے تاہم اسرائیل نے سرکاری سطح پر اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔













