بنگلہ دیش بھر کی بلدیاتی لیڈرشپ بھی لپیٹ دی گئی، میئرز سمیت 2200 سے زائد نمائندے فارغ

منگل 20 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے تمام 12 سٹی کارپوریشنز کے میئرز اور مقامی حکومت کے تینوں (ٹیئرز) درجوں کے 1,873 عوامی نمائندوں کو ہٹاکر ایڈمنسٹریٹرز تعینات کردیے۔

ملک کے انگریزی روزنامے دی ڈیلی اسٹار کے مطابق حکومت نے تمام 330 بلدیاتی اداروں کے میئرز و دیگر سربراہان کو گھر بھیج دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات ملتوی ہونے جارہے ہیں؟

ایل جی آر ڈی کی وزارت کی طرف سے کل جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشنز کے مطابق چیئرمین، مرد و خواتین نائب چیئرمین سمیت تمام سطحوں کی میونسپلٹیوں کے 1873 نمائندوں کو برطرف کردیا گیا ہے۔

حکومت نے سٹی کارپوریشنوں اور میونسپلٹیوں کے میئرز کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیے ہیں۔

لوکل گورنمنٹ ڈویژن (ایل جی ڈی) کے ایڈیشنل سیکریٹری محمد شیر علی کو ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کارپوریشن کا ایڈمنسٹریٹر اور ڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل (ایڈیشنل سیکرٹری) ایل جی ڈی محمد محمود الحسن کو مقرر کیا گیا۔

چٹگرام، کھلنا، راجشاہی، سلہٹ، باریشال، رنگ پور اور میمن سنگھ کے ڈویژنل کمشنروں کو ان کے متعلقہ سٹی کارپوریشنز کے چارجز سونپے گئے۔ ڈھاکہ کے ڈویژنل کمشنر غازی پور سٹی کارپوریشن کا انتظام کریں گے۔

ایل جی ڈی کے ایڈیشنل سیکریٹری اے ایچ ایم کامرزمان کو نارائن گنج سٹی کارپوریشن اور سیف الدین احمد، بنگلہ دیش اکیڈمی فار رورل ڈیولپمنٹ  کے ڈائریکٹر جنرل، کومیلا سٹی کارپوریشن کے منتظمین مقرر کیے گئے۔

نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران بھی اپنے علاقوں کی متعلقہ میونسپلٹیوں کے ایڈمنسٹریٹر ہوں گے۔

کچھ روز قبل ایک حکم میں کہا گیا تھا کہ موجودہ حالات کی وجہ سے بہت سے میئر اور پینل میئر غیر حاضر رہے ہیں۔ ایل جی ڈی نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

مزید پڑھیے: حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے بعد بنگلہ دیشی طلبا نے سیاسی جماعت بنانے کے لیے کمر کس لی

حکم نامے میں کہا گیا کہ ان کی عدم موجودگی سے سٹی کارپوریشنز کی خدمات اور دیگر کام رک گئے اور اسی وجہ سے چیف ایگزیکٹو افسران کو عوامی مفاد میں سٹی کارپوریشنز کو چلانے کے لیے مکمل انتظامی اور مالی اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

حکم نامے کے بعد حکومت نے کل تمام عوامی نمائندوں کو ہٹانے اور منتظمین کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

ڈی ایس سی سی، ڈی این سی سی، چٹگرام، کھلنا، باریشال، میمن سنگھ اور کومیلا سٹی کارپوریشنوں سمیت کئی میئرز 5 اگست کو عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے کام پر غیر حاضر ہیں۔

تمام غیر حاضر میئرز کو شیخ حسنہ واجد کی عوامی لیگ کی حمایت حاصل تھی۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمان کے سوگ والی عام تعطیل ختم

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایل جی آر ڈی کے مشیر اے ایف حسن عارف نے کہا کہ یہ اقدام پوری مقامی حکومت کو صاف کرنے کی کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر میئر اور چیئرمین کے بجائے ایڈمنسٹریٹر فرائض سرانجام دیں گے تاہم ابھی کونسلرز کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

مقامی حکومت کے ماہر ڈاکٹر طفیل احمد نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے خود کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ 12  میئرز میں سے 9 فرار ہیں جبکہ باقی ملک میں ہونے کے باوجود کام پر نہیں آرہے۔

حسن عارف نے مزید کہا کہ کونسلرز بھی غیر حاضر ہیں جس کی وجہ سے سٹی کارپوریشنز غیر فعال ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایک شہر جو دل میں اتر گیا

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

پنجاب حکومت کی نئی ٹرانسپورٹ پالیسی: چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کے لیے 3 سرکاری گاڑیوں کی اجازت

برازیل کی معروف فٹبالر نے اسلام قبول کرلیا، عمرے کی ویڈیو بھی شیئر کردی

آئی ایم ایف وفدمعاشی جائزے کے لیے 25 فروری کو پاکستان آئے گا، اصلاحات کی تعریف

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

ٹی20 ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے خلاف کامیابی کس طرح سیمی فائنل کی راہ ہموار کرسکتی ہے؟

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟