کیا لورالائی میں قتل ہونے والا شخص سابق افغان کمانڈر تھا؟

منگل 20 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

2 روز قبل بلوچستان کے شمال مغرب میں واقع ضلع لورالائی کی مقامی سبزی منڈی میں نامعلوم افراد نے ایک شخص پر فائرنگ کردی تھی، فائرنگ کے بعد امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے جہاں سے زخمی شخص کو سرکاری ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سوار سبزی منڈی آئے اور نہتے شخص پر موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھے شخص نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا اور بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں بلوچستان میں پھر دہشتگردی، پنجاب سے تعلق رکھنے والے 2 مزدور قتل

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈی ایس پی کریم مندوخیل نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر پولیس نے تفتیش کا عمل شروع کردیا۔ جاں بحق شخص کی شناخت برات خان سلیمان خیل کے نام سے ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ابتدا میں جاں بحق شخص کے کپڑوں سے کسی قسم کی شناختی دستاویز برآمد نہیں ہوئی لیکن بعد ازاں تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ جاں بحق شخص کا تعلق افغانستان سے تھا۔

’مقتول کی سبزی کی دکان تھی‘

ڈی ایس پی کریم مندوخیل نے بتایا کہ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ برات خان سبزی فروش تھا جو اپنے چچا کے ہمراہ روزانہ کی بنیاد پر سبزی خرید کر اسے اپنی دکان پر فروخت کرتا تھا۔

انہوں نے کہاکہ جاں بحق شخص کے ورثا کی جانب سے زور دیا جارہا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج نہ کیا جائے لیکن پولیس کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جس میں قتل اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ لاش کا پوسٹ مارٹم کر کے میت کو ورثا کے سپرد کردیا گیا ہے جسے اہل خانہ نے لورالائی میں ہی سپرد خاک کردیا ہے۔

افغان باشندے کے سابق کمانڈر ہونے کے حوالے سے چہ مگوئیاں

انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا سمیت دیگر حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہورہی ہیں کہ واقعہ میں جاں بحق ہونے والا شخص سابق افغان کمانڈر تھا تاہم اس حوالے سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، اب تک کوئی ایسے ثبوت نہیں ملے۔

لورالائی میں مقیم مقتول کے اہل خانہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی نیوز کو بتایا کہ برات خان کا تعلق افغانستان کے علاقے وازی خوا سے تھا جو طالبان کی حکومت سے قبل افغان کمانڈر تھا تاہم افغانستان میں طالبان حکومت کا غلبہ ہونے کے بعد برات خان ایران بھاگ گیا اور بعد ازاں پاکستان کے علاقے لورالائی منتقل ہوگیا۔

افغان باشندہ 3 سال سے لورالائی میں مقیم تھا

اہل خانہ کے مطابق برات خان گزشتہ 3 سالوں سے لورالائی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ آباد تھا اور یہاں پر سبزی فروخت کرکے اپنا گزر بسر کررہا تھا۔ ہماری کسی قسم کی دشمنی لورالائی میں تو نہیں ہے لیکن افغانستان میں ہمارے کئی اہل خانہ مارے جا چکے ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے بارات خان کو نامعلوم نمبروں سے دھمکیوں کی کالز بھی آرہی تھیں لیکن انہوں نے ان دھمکیوں پر دھیان نہیں دیا جس کے بعد یہ واقعہ رونما ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں کیا نواب اکبر بگٹی کا قتل بلوچستان میں شورش کی وجہ بنا؟

بلوچستان میں اس طرز کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل اکتوبر 2022 میں کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس پر نامعلوم افراد نے سابق افغان پولیس کمانڈر عبدالصمد اچکزئی کو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ وہ افغان صوبہ قندھار کے ضلع پنجوائی کے سابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ پولیس چیف تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیصل خان کا یوٹرن، الزامات کے بعد بھائی عامر خان سے معافی مانگ لی

یہ ننھے پھول قوم کا مستقبل تھے، نواز شریف کا ٹیوشن سینٹر سانحہ میں 14 بچوں کی موت پر اظہار رنج و غم

آزاد کشمیر: عام انتخابات سے قبل سیاسی جوڑ توڑ، تنویر الیاس پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی

الیکشن کمیشن  نے خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق اہم ہدایات جاری کردیں

کیا سجاد علی نے بھارتی ریئلٹی شو کو اپنے گانے کی اجازت دی تھی؟ حقیقت سامنے آگئی

ویڈیو

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں