مشترکہ پارلیمانی سیشن میں جوڈیشل پیکیج لائے جانے سے متعلق اپوزیشن جماعتیں لاعلم

پیر 26 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ کچھ روز سے حکومت کی جانب سے عدلیہ کے حوالے سے ایک جوڈیشل پیکج لائے جانے کی خبریں سوشل میڈیا پر زیرگردش ہیں جن میں کہا یہ جا رہا ہے کہ حکومت شاید چیف جسٹس کی عہدے کی مدت میں اضافہ کرے۔ ایسی قانون سازی جس کے ذریعے چیف جسٹس کا تعیناتی سینیئر موسٹ کے اصول کی بجائے، 3 سنییئر موسٹ ججز میں سے کسی ایک جج کے انتخاب کے اصول پر کی جائے اور شاید بینچز تشکیل دینے سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات کو بحال کیا جائے۔

تاہم اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز اور قانون دان ایسی پیش رفت سے لاعلم ہیں۔

اگر جوڈیشل پیکیج لاتے ہیں تو اس کا مطلب ہو گا حکومت کے پاس اکثریت ہے، بیرسٹر سینیٹر علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اور سینیئر قانون دان بیرسٹر علی ظفر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل پیکیج کے بارے میں بہت سی افواہیں چل رہی ہیں جن میں کچھ بھی فی الحال کنفرم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کا امکان: پارلیمنٹ میں اس وقت نمبر گیم کیا ہے؟

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سب سے خطرناک افواہ یہ ہے کہ یہ سینیئر موسٹ کے اصول کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی کا چیف جسٹس لگانے کے لیے ترمیم کریں گے لیکن اس کے لیے انہیں آئینی ترمیم لانے کی ضرورت پڑے گی جس کے لیے ان کے پاس مطلوبہ عددی اکثریت موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے چیف جسٹس کے عہدے کے معیاد اگر یہ لوگ بڑھانا چاہیں تو اس کے لیے بھی انہیں آئینی ترمیم اور پھر عددی اکثریت چاہیے جو فی الحال تو ان کے پاس نہیں۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے عہدے کے معیاد بڑھانے اور گھٹانے سے متعلق 2 مثالیں ہماری تاریخ میں موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس شیخ ریاض کے عہدے کی مدت میں توسیع کے لیے ترمیم کروائی تھی لیکن وہ ترمیم اس وقت کے پارلیمان نے نامنظور کر دی اور اسی طرح سے ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ایک جج کو نکالنا مقصود تھا تو بھٹو نے آئینی ترمیم کرا کے ججوں کے عہدے کی مدت کم کروا دی تھی۔

مزید پڑھیے: حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کون سی نئی اہم قانون سازی کرنے جا رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ ایک ترمیم یہ کی جا سکتی ہے کہ بینچز کی تشکیل سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات 3 رکنی کمیٹی سے واپس چیف جسٹس کو منتقل کر دیے جائیں اور یہ سادہ اکثریت سے ہو بھی سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے آئینی ترمیم نہیں کرنی پڑے گی صرف رولز میں ترمیم کر کے ایسا کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات سے تاحال انکار کر رہی ہے کہ کوئی جوڈیشل پیکیج نہیں لایا جا رہا اور اپوزیشن ممبران کے ساتھ ایسی کوئی چیز ڈسکس ہی نہیں کی گئی۔

کامران مرتضٰی

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اور جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمٰن کے سینیٹر کامران مرتضٰی نے بھی اس بات سے انکار کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کسی جوڈیشل پیکیج کے بارے میں کسی طرح کا کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے