کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن، پولیس کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

بدھ 28 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کچھ روز قبل پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں نے اچانک حملہ کیا تھا جب پولیس اہلکار ڈیوٹی کر کے واپس آرہے تھے، اِس حملے میں 12 پولیس اہلکار ہلاک اور 8 زخمی ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد پنجابپولیس نے ڈاکوؤں کے خلاف ایک بار پھر آپریشن شروع کردیا ہے، پولیس کے مطابق متعدد ڈاکوؤں آپریشن کے دوران گرفتار ہوئے ہیں، اس آپریشن کی نگرانی آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور خود کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتِ پنجاب کا کچے کے ڈاکوؤں کے سر کی قیمت کا اعلان

سابق آئی جی پنجاب شوکت جاوید نے امریکی خبررساں ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ اس علاقے میں ڈاکوؤں کو دو وجوہات کی وجہ سے قابو نہیں کیا جاسکا، جن میں اولین حکومتوں کی عدم دلچسپی اور دوسری وجہ یہ ہے کہ پولیس کے پاس وسائل کم ہیں اور پولیس اہلکاروں کو اس آپریشن کے لیے خاص تربیت بھی نہیں دی گئی ہے۔

’کچے کے علاقے میں کوئی بھی کارروائی دیرپا نہیں ہوتی، وقتی طور پر ایک آپریشن کر دیا جاتا ہے،کچھ ڈاکو اِس آپریشن میں مارے جاتے ہیں، کچھ علاقے ڈاکوؤں سے خالی کرا لیے جاتے ہیں، کچھ ڈاکوں گرفتار ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کچے کے ڈاکوؤں کا پولیس پر حملہ ناقابل قبول، مریم نواز نے آپریشن کا اعلان کردیا

شوکت جاوید کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈاکوؤں کے خلاف عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے پولیس کے پاس ثبوت نہیں ہوتے، اس لیے ان کو سزا نہیں ہوتی، اس طرح وہ کچھ عرصے کے بعد چھوٹ جاتے ہیں اور وہ دوبارہ سے اپنی کارروائیوں میں متحرک ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کچے کے علاقے میں ایک بند ہے جس پر گاڑی چل سکتی ہے وہ جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتا ہے لیکن اُس کی مرمت نہیں کی جاتی۔ اِسی طرح وہاں پر جو پولیس چوکیاں بنائی جاتی ہیں وہ ناقص میٹریل سے بنائی جاتی ہیں۔ ان چوکیوں میں جوانوں کے رات کو سونے کے لیے کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں ہوتا، نہ پولیس اہلکاروں کے پاس کوئی اسلحہ ہوتا ہے۔

کچے میں جرائم پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے؟

سابق اسسٹنٹ کمشنر روجھان عمران منیر نے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں پر ایک دم قابو نہیں پایا جاسکتا، پولیس کے پاس ایسی صلاحیت بھی نہیں ہے کہ وہ ڈاکوؤں پر ایک دن میں قابو پالیں، کیوں کہ یہاں تین صوبوں کی سرحدیں ملتی ہیں جس کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کچے کے ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن کامیاب کیوں نہیں ہوتے؟

انہوں نے کہ اکہ ہر سال گرمیوں میں دریا اور نالوں میں پانی زیادہ آ جانے کے ساتھ ساتھ یہاں جرائم کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔ ان کے بقول کچے کے ڈاکو تیراکی میں ماہر ہوتے ہیں جب کہ پولیس اہلکاروں کے پاس اس کی مہارت نہیں ہوتی۔

اُن کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر کچے کے علاقے میں پنجاب کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے جن کو نہ علاقے کی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے، نہ ہی اُنہیں مقامی زبان آتی ہے، ایسے میں اس علاقے میں مقامی لوگوں کو پولیس میں بھرتی کر کے ہی جرائم پر طویل مدت میں قابو پایا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟