پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ کی جانب سے پالیسی بورڈ میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ خیبرپختونخوا تحلیل کرنے کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کر دیا۔
خیبر پختونخوا نگران کابینہ کا اجلاس 16 مارچ 2023 کو ہوا تھا جس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے تھے، ایک فیصلہ تدریسی اسپتالوں کے پالیسی بورڈ کو تحلیل کرنا بھی تھا۔
نگران حکومت کے اس فیصلے کو تحریک انصاف کی مخالف سیاسی جماعتوں اور ڈاکٹرز تنظیموں نے سراہا تھا جبکہ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ پالیسی بورڈ تحلیل کرنا نگران حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل رکنی بینج نے آج نگران کابینہ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل علی گوہر درانی نے عدالت کو کابینہ فیصلے کے حوالے سے تفیصلی طور پر آگاہ کیا کہ نگران حکومت نے 16 مارچ 2023 کو پالیسی بورڈ ایم ٹی آئی کو تحلیل کردیا ہے۔
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ کہ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ہیلتھ نے پالیسی بورڈ تحلیل کرنے سے اختلاف کیا لیکن اس کے باوجود حکومت نے بورڈ تحلیل کیا۔
سابق اے جی خیبر پختونخوا شمائل بٹ بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نگران حکومت کے پاس بورڈ کو تحلیل کرنے کا اختیار نہیں ہے، وہ صرف روزانہ کے معاملات دیکھ سکتی ہے، انہوں نے الیکشن ایکٹ 230 کا بھی حوالہ دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ نگران حکومت کا جو کام ہے وہ نہیں کررہی، جو کام نگران حکومت کے کام نہیں ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد نگران حکومت کی جانب سے پالیسی بورڈ تحلیل کرنے پر حکم امتناع جاری کردیا اور نگران حکومت کو نوٹس جاری کرکے 17 اپریل تک جواب طلب کرلیا۔














