اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد

بدھ 2 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق، اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے اسرائیل میں داخلے پر اس لیے پابندی عائد کی جارہی ہے کیونکہ وہ انہوں نے ایران کے میزائل حملوں کی واضح طور پر مذمت نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا مطالبہ کردیا

واضح رہے کہ قوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گزتہ روز  ایران کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کے تنازع اور کشیدگی مزید پھیلنے کے امکان کو ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی اور ایک بار پھر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

منگل کو ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنی ایک پوسٹ میں انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ مزید نہیں پھیلنی چاہیے یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی ایران کے میزائل حملوں پر اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کے مذمتی بیان پر کڑی تنقید کی ہے اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ایس ایل 11، پشاور زلمی نے بغیر ففٹی سب سے بڑا ہدف عبور کر کے ریکارڈ قائم کردیا

مشرقی وسطیٰ کشیدگی: قطر اور انڈونیشیا کے پاکستان سے ساتھ اہم رابطے

لمز عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی نمبر ون یونیورسٹی قرار

آبپارہ میں ایدھی آفس سیل نہیں ہوا، اسلام آباد انتظامیہ کی وضاحت

چین نے امریکی ٹیرف کے جواب میں اقدامات شروع کردیے

ویڈیو

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

آبنائے ہُرمُز، پاکستانی جھنڈے کے چرچے، ٹرمپ پاکستان کی طاقت مان گیا، امن کوششوں پر سعودی عرب کا خراج تحسین

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟