پی آئی اے کی پرواز مسافروں کا سامان دمام ایئرپورٹ پر چھوڑ کر لاہور پہنچ گئی

ہفتہ 2 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی دمام سے لاہور آنے والی پرواز مسافروں کا سامان ایئرپورٹ پر ہی بھول گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے کی نجکاری نہ ہونے کی صورت میں ملک کو مزید کتنا نقصان ہوگا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کے روز دمام سے لاہور کے لیے روانہ ہونے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 248 کے دمام سے لاہور آ رہے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب مسافر لاہور ائیرپورٹ پر اترے تو ان میں سے 37مسافروں کا سامان غائب تھا۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ پی آئی کی فلائٹ پی کے 248 ان تمام مسافروں کا سامان دمام ایئرپورٹ پر ہی چھوڑ کر لاہور کے لیے روانہ ہو گئی۔

مزید پڑھیں:’صرف اللہ کی رضا کی خاطر‘، بلیو ورلڈ سٹی پی آئی اے کی خریداری میں کیوں دلچسپی لے رہی ہے؟

مسافروں نے لاہور ایئرپورٹ پر ہی شدید احتجاج کرنا شروع کردیا۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حکام نے دمام ائیرپورٹ پر مسافروں کے سامان کے غائب ہونے کی وجوہات نہیں بتائیں جبکہ انتظامیہ نے مسافروں کو اگلی پرواز سے سامان منگوا کردینے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد مسافروں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط

گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟