مشہور امریکی مؤرخ اور ادارے جن کی پیشگوئیاں اور جائزے غلط ثابت ہوئے

بدھ 6 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے 9 صدارتی انتخابات کے بارے میں درست پیشگوئی کرنے والے مشہور مؤرخ ایلن لِچ مین کی اس بار پیشگوئی غلط ثابت ہوگئی ہے، ایلن لِچ مین نے پیشگوئی کی تھی کہ صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست ہوگی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی الیکشن جیت گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی انتخابات کے بعد پاکستان کے لیے کیا اچھا اور کیا برا ہوسکتا ہے؟

ایلن لِچ مین نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا ’امریکا میں اب میرے جیسے سفید فام زوال کی طرف جارہے ہیں، کملا ہیرس امریکا کی نئی اور پہلی خاتون صدر منتخب ہوں گی۔‘

ایلن لِچ مین نے کچھ مخصوص معیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک ماڈل بنا رکھا تھا، اس ماڈل کی مدد سے 1984 کے بعد ہونے والے تمام امریکی انتخابات کی پیشگوئی کی ہے جن میں صرف ایک پیشگوئی غلط ثابت ہوئی،لچ مین کی واحد غلط پیشگوئی 2000 میں ہوئی جب اُنہوں نے کہا تھا کہ ڈیموکریٹک امیدوار ال گور وائٹ ہاؤس جائیں گے تاہم وہ الیکشن ہار گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ایلون مسک نے امریکی انتخابات کے لیے ایکس کا لائک بٹن تبدیل کیا؟

تاہم اس بار انہوں نے کہا تھا کہ کملا ہیرس وائٹ ہاؤس جائیں گی، ان کی یہ پیشگوئی غلط ثابت ہوئی ہے کیوں کہ اس بار ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی الیکشن جیت گئے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزے غلط ثابت

امریکا بھر سے رائے عامہ کے جائزوں کی فہرست ہے جو 2024 کے ریاستہائے متحدہ کے صدارتی انتخابات متعلق کرائے گئے تھے۔

امریکی صدارتی الیکشن کے ایک دن قبل کروائے گئے رائے عامہ کے 6 تجزیے غلط ثابت ہوئے ہیں، 270towin کی جانب سے 4 نومبر کو کرائے گئے سروے کے مطابق کملا ہیرس کو ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل تھی، کملا ہیرس کی جیت کے امکانات 48.4 فیصد جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات 47 فیصد تھے۔

4 نومبر کو ہی کرائے گئے abc نیوز کے سروے 538 کے مطابق کملا ہیرس کی کامیابی کے امکانات 48 فیصد جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات 46.8 فیصد تھے۔

Cook Political report کے 4 نومبر کے کراوائے گئے سروے کے مطابق کملا ہیرس ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے تھیں، کملا ہیرس کی جیت کے امکانات 48.7 فیصد جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات 47.8 فیصد تھے۔

Decision Desk HQ/The Hill کے 4 نومبر کو کروائے گئے سروے کے مطابق کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے امکانات برابر 48.4 فیصد تھے۔

Silver Bulletin کے 4 نومبر کو کروائے گئے سروے کے مطابق کملا ہیرس کو ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل تھی، کملا ہیرس کی کامیابی کے امکانات 48.6 فیصد جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات 47.6 فیصد تھے۔

4 نومبر کو ہی Real Clear Politics کے کروائے گئے سروے میں بھی کملا ہیرس کو ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے دکھایا گیا تھا، 48.7 فیصد جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات 48.6 فیصد تھے، کملا ہیرس کی کامیابی کی اوسط 48.5 فیصد جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی اوسط 47.7 فیصد دکھائی گئی تھی۔

یہ تمام رائے عامہ کے سروے غلط ثابت ہوئے ہیں، کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ واضح اکثریت سے نئے امریکی صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان، سری لنکا اور بنگلادیش ویمنز انڈر 19 سہ فریقی سیریز کا شیڈول جاری

اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

ریاست مخالف بیانیہ چلانے پر کارروائی، بلوچستان کے 95 یونیورسٹی اساتذہ سمیت 100 سرکاری ملازمین برطرف

آسان ٹیکس اسکیم: ایف بی آر افسران اور تاجر نمائندوں کا مل کر دکانداروں کی رجسٹریشن کرنے کا فیصلہ

گیسٹیک 2026: یو جی ڈی سی کی غیرملکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

ریاست مخالف بیانیہ چلانے پر کارروائی، بلوچستان کے 95 یونیورسٹی اساتذہ سمیت 100 سرکاری ملازمین برطرف

علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کی لڑائی، وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

کھیل میں سیاست کی گنجائش نہیں، بھارتی ٹیم کا رویہ ناقابل قبول ہے، پاکستانی شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘