جرگے کی کاوش کامیاب، مغوی پولیس اہلکار واپس آگئے

منگل 19 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے ضلع  بنوں میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اغوا کیے گئے پولیس اہلکار بازیاب ہو کر واپس آگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بنوں: مسلح افراد کا پولیس چیک پوسٹ پر دھاوا، 7 اہلکار اغوا، ہتھیار اور دیگر سامان بھی لے اڑے

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں ضیا الدین کے مطابق گزشتہ روز اغوا ہونے والے پولیس اہلکار بحفاظت واپس آگئے ہیں، اہلکاروں کی بحفاظت واپسی میں پولیس اور مقامی عمائدین نے اہم کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بنوں کے نواحی علاقے میں ایک چوکی پر مسلح افراد نے اچانک حملہ کیا تھا اور وہاں موجود 4 اہلکاروں کو اسلحہ اور دیگر سامان سمیت ساتھ لے گئے تھے، پولیس کے مطابق اغواکار مسلح افراد کی تعداد 20 سے زائد تھی۔

یہ بھی پڑھیں: صدر اور وزیراعظم کا بنوں میں خوارج دہشتگردوں کے خلاف جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت

میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے مغوی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے جرگہ تشکیل دیا تھا، جس نے مسلح افراد سے مزاکرت کے بعد پولیس اہلکاروں کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں کو کیوں اغوا کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بسنت: لاہور میں ڈرون سے نگرانی، چھتوں کی رجسٹریشن اور زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ

چین اور یوراگوئے کو برابر اور ملٹی پولر دنیا کے قیام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، صدر شی جن پنگ

پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بحری دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم

یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں

لاہور: بسنت کی آمد پر ٹریفک پولیس کی تیاریاں، 7 لاکھ موٹرسائیکلوں پر سیفٹی راڈز نصب

ویڈیو

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا قبائل کے ہمراہ اسلام آباد مارچ کا اعلان، مقصد کیا ہے؟

دریائے راوی کی زمین پر بننے والے رہائشی منصوبے ختم کیے جائیں، راوی بچاؤ تحریک کا مطالبہ

لاہور میں بسنت کی تیاریاں جاری، پتنگوں سے پہلے ان کی قیمتیں آسمان پر

کالم / تجزیہ

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ رو رہے تھے