مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو 24 نومبر کا احتجاج جشن میں بدل جائیگا، عمران خان

جمعرات 21 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 24نومبر کو کسی بھی صورت ہمارا احتجاج ملتوی نہیں ہوگا۔ 8فروری کے بعد احتجاج کے لیے 2 کالیں دی گئی ہیں۔ پہلے صرف پارٹی کارکنان کو 4اکتوبر کو باہر آنے کا کہا تھا لیکن اب 24نومبر کو پوری قوم سے کہتا ہوں کہ باہر نکلیں اور احتجاج کریں، کیونکہ یہ پاکستان کی بقا اور خودمختاری کی تحریک ہے۔

بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے اڈیالہ جیل سے اپنا پیغام سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تینوں مطالبات کے حوالے سے مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت ہوئی تو اسلام آباد میں احتجاج جشن میں بدل جائے گا۔ 24 نومبر کے لیے جمعہ سے ہمارے قافلے احتجاج کے لیے نکلنا شروع کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج اور مذاکرات کے لیے اپنا 3نکاتی ایجنڈا پہلے ہی پیش کرچکے ہیں۔ ہم اس وقت بات کریں گے جب دوسرا فریق اپنے نکات پیش کرے گا۔ اختیارات رکھنے والوں سے مذاکرات ہوں گے، اب آپ خود سوچیں کہ طاقت کس کے پاس ہے؟

مزید پڑھیں: عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو حکومت سے مذاکرات کی اجازت دیدی؟

عمران خان نے کہا کہ ملک کو آئین کے مطابق نہیں چلایا جا رہا، اگر ملک کو آئین کے مطابق چلایا جاتا تو ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین سیاسی جماعت پر ظلم نہ ہوتا۔

’پی ٹی آئی کو الیکشن سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ یہاں تک کہ ہمارا انتخابی نشان بھی چھین لیا گیا، پھر بھی ہم نے 8 فروری کو دو تہائی اکثریت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی‘۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کو 10ماہ ہو گئے ہیں۔ اس تمام عرصے میں بالخصوص پنجاب میں الیکشن ٹربیونلز نے کتنے مقدمات کا فیصلہ کیا؟ ہماری پارٹی کے کارکنوں اور قائدین کو بغیر کسی ثبوت کے من گھڑت مقدمات میں ڈیڑھ سال سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کی ضمانتیں منظور کیوں نہیں ہو رہی ہیں؟

یہ پڑھیں: توشہ خانہ 2 کیس میں ضمانت پانے والے عمران خان ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار قرار

سابق وزیر  اعظم کا کہنا تھا کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ میں نے فوج پر حملہ کرنے کی بات کی۔ میری ویڈیوز دستیاب ہیں، میں نے کبھی کسی پر حملے کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ 9مئی کو رینجرز (پیراملٹری فورس) کے ذریعے میرے غیر قانونی اغوا کی فوٹیج عوام کے لیے جاری کی گئی، جس پر ردعمل سامنے آیا۔ میں ان کی قید میں تھا، مجھے کیسے معلوم تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر مسلح خواتین اور بچے فوج پر کیسے حملہ کر سکتے ہیں؟ کیا ڈاکٹر یاسمین راشد ٹینک پر سوار تھیں کہ کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کریں گی؟ ان کی ایسی ویڈیوز بھی ہیں جن میں وہ مسلسل لوگوں کو پرامن رہنے کی تلقین کرتی نظر آرہی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ محض فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) واحد قومی سیاسی جماعت ہے جو ملک میں دہشتگردی کے مسئلے سے سیاسی طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عوامی مینڈیٹ والی سیاسی قوتیں ہی ملک کو متحد رکھ سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’یہ ناقابلِ قبول ہے‘، اکشے کمار کی بھارت میں نسل پرستی کے واقعات کی سخت مذمت

پنجاب میں اسٹروک مینجمنٹ پروگرام، فالج کے مریضوں کے لیے نئی زندگی کی نوید

سرمد کھوسٹ کی فلم ’لالی‘ ، پاکستان کی پہلی مکمل فیچر فلم نے عالمی سینما میں دھوم مچا دی

بنگلہ دیش نے بھارتی اسپائس جیٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

ایپسٹین کے مشیروں کیخلاف مقدمہ تصفیے پر منتج، ساڑھے 3 کروڑ ڈالر کی ادائیگی پر آمادگی

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب