بشریٰ بی بی کو فیصلہ سازی میں شریک نہیں ہونا چاہیے، شوکت یوسفزئی

بدھ 27 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ  بشریٰ بی بی کا احترام کرتا ہوں لیکن انہیں فیصلہ سازی میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ پشاور سے اسلام آباد تک پی ٹی آئی احتجاج کے دوران سیاسی قیادت نظر نہیں آئی، بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ سے بڑے پارٹی عہدیداران کہاں تھے، معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور کالی بھیڑوں کو پارٹی سے نکال باہر کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے علی امین اور بشریٰ بی بی مانسہرہ پہنچ گئے، اہم پریس کانفرنس متوقع

نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی کلچر کا جنازہ نکل چکا ہے، وفاقی حکومت نے جس ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، لیکن پی ٹی آئی کو اپنی کمی اور کوتاہی پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے حوالے سے پی ٹی آئی میں قیادت، رابطے اور تعاون کا فقدان نظر آیا جس سے بہت مایوسی ہوئی، اتنی بڑی تعداد میں کارکنان آئے لیکن کوئی پلان نظر نہیں آیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی میں لوگوں نے بڑے بڑے عہدے رکھے ہوئے ہیں، میں 1996 سے اس پارٹی میں ہوں، میرے پاس سرکاری یا پارٹی کا عہدہ نہیں ہے لیکن پارٹی کے ساتھ کھڑا ہوں۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جن کے پاس عہدے ہیں اور جو ہر ہفتے عمران خان سے جیل میں ملتے ہیں، ان لوگوں نے مایوس کیا ہے، اس سے پہلے جتنے بھی دھرنے ہوتے تھے، ان کے لیے آپس میں روزانہ کی بنیاد پر مشاورت کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج: اسپتال میں لائے گئے جاں بحق افراد اور زخمیوں کی تعداد سامنے آ گئی

انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو تو قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا، ان کے اوپر ورکرز اور سیاسی قیادت کا دباؤ تھا، پشاور سے اسلام آباد ڈی چوک تک باقی قیادت نظر ہی نہیں آئی، بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کہاں تھے، ان لوگوں کو اتنے بڑے بڑے عہدے نہیں لینے چاہئیں تھے۔

رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ہم فوج، پولیس یا اپنے دیگر اداروں سے لڑنے کے لیے اسلام آباد نہیں گئے تھے، ہم پرامن احتجاج کے لیے گئے تھے، جب گولیاں چلائی گئیں تو ورکرز کو کیسے وہاں رکنے دیتے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے ایسی صورتحال میں حکومت سے مذاکرات کیوں نہ کیے، اگر ریڈ زون کا مسئلہ تھا تو احتجاج کا مقام تبدیل ہوسکتا تھا، عمران خان نے سنگ جانی میں جلسے کا کہہ دیا تھا تو پھر ڈی چوک جانے پر کون بضد تھا، شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس طرح کی کالی بھیڑوں کو پارٹی سے نکالنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:احتجاج ختم ہونے کے بعد اسلام آباد اور لاہور کی رونقیں بحال ہونا شروع، موٹرویز بھی کھل گئیں

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سیف نے گزشتہ رات بتایا تھا کہ عمران خان سنگجانی کے لیے متفق ہوچکے ہیں لیکن بشریٰ بی بی نہیں مانیں، بشریٰ بی بی کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں ہے، پی ٹی آئی اس قدر بے بس ہوچکی ہے کہ سیاسی فیصلے بھی نہیں کرپارہی۔

انہوں نے کہا کہ جس وقت بشریٰ بی بی نے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو 5 اور 10 ہزار لوگوں کو لانے کا کہا تو اس فیصلے کے خلاف میں آواز اٹھانے لگا تھا لیکن مجھے روکا گیا، بشریٰ بی بی کا احترام کرتا ہوں لیکن انہیں فیصلہ سازی میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان