لبنان جنگ بندی: گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگوں کی واپسی شروع

جمعرات 28 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے بعد لبنان کے سرحدی علاقوں میں لوگوں کی واپسی شروع ہو گئی۔

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے جنگ کے باعث بے گھر ہونے والوں کو مدد کی فراہمی کا عزم کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد کا آغاز

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ جنگ بندی سے فوری بعد جنوبی لبنان، بیروت کے نواح اور وادی البقاع کے رہنے والے لوگوں نے واپسی شروع کر دی ہے اور بیروت سے جنوب کی طرف جانے والی شاہراہ پر ٹریفک کا اژدھام دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے بین القوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین ستمبر میں شروع ہونے والی کھلی جنگ میں ہزاروں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے اور 8 لاکھ 86 ہزار سے زیادہ لوگوں کو تحفظ کی تلاش میں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔

بچوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ

عالی ادارہ اطفال (یونیسف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں بے شمار شہریوں کو اس جنگ میں ہولناک نقصان کا سامنا کرنا پڑا جن کی تکالیف میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حالیہ امن کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا اور بچوں اور ان کے خاندانوں کی محفوظ طور سے اپنے گھروں کو واپسی ہونی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حالات کو مستحکم بنانے اور بحالی کی سرگرمیوں میں بچوں کے تحفظ کو مرکزی اہمیت دی جانی ضروری ہے۔

مزید پڑھیے: جنگ بندی کے روشن امکانات کے باوجود اسرائیل کی لبنان پر بمباری تیز، مزید شہادتیں

کیتھرین رسل نے کہا کہ انسانی امداد تک محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی کی ضمانت بھی ہونی چاہیے اور اس حوالے سے بالخصوص جنوبی لبنان پر خاص توجہ درکار ہے جہاں ضروریات دیگر علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی ناصرف تشدد کا خاتمہ کرنے بلکہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے تحفظ اور بہبود کوترجیح دینے کا لائحہ عمل بنانے کا موقع بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کریں، بین الاقوامی قانون کا احترام اور بچوں کا روشن مستقبل یقینی بنائیں اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ کام کریں۔

جنگ کے باعث 20 لاکھ بچے تعلیم سے محروم رہے

یونیسف نے بتایا ہے کہ جنگ کے باعث 20 لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم سے محروم رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: لبنان: صیہونی افواج کے ہاتھوں متعدد شہادتیں، زیرعلاج بچوں پر بھی حملے جاری

بمباری میں متعدد اسپتال تباہ ہو گئے ہیں اور بڑی تعداد میں شہریوں کو طبی سہولیات اور بنیادی خدمات تک رسائی نہیں رہی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری مہم: صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسپتال پر حملے کا دعویٰ جھوٹ، افغانستان پوزیشن واضح کرے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے ساتھ، عطا تاڑ

حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کو غیر ملکی سرمایہ کاروں تک توسیع دے دی

جہاں جہاں اور جس چیز سے ملک کو خطرہ ہے اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

دہشتگردوں کا نیا پروپیگنڈا، ٹرمپ عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے

کسی بھی مسئلے پر زیادہ سوچنا پیچیدہ مسئلہ ضرور، لیکن اس کا آسان حل کیا ہے؟

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا