قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے انتخابات کے لیے فنڈز مختص کرنے کا بل مسترد کردیا

جمعرات 13 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے لیے فنڈز مختص کرنے کا منی بل اتفاق رائے سے مسترد کردیا۔

قیصر شیخ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فنڈز کی قلت اور بھاری خسارے کا سامنا ہے۔ ہمارے پاس مختص بجٹ کے علاوہ اضافی فنڈ دستیاب نہیں ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے موقف اپنایا کہ اضافی فنڈ فراہم کیے تو یہ آئی ایم ایف پروگرام سے تجاوز  ہوگا لہذا حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ خسارے تک محدود  رہنا چاہتی ہے۔

رکن کمیٹی خالد مگسی کا کہنا تھا کہ مالی مشکلات کے باعث سیلاب سے متاثرہ بلوچستان اور سندھ کو امداد نہیں ملی۔ اس پس منظر میں انتخابات کے لیے اتنی بڑی رقم مختص کیے جانے سے دونوں صوبوں میں مایوسی پھیلےگی۔

چیئرمین کمیٹی قیصر شیخ نے دریافت کیا کہ کیا ماضی میں بھی ایسا منی بل متعارف کرایا گیا ہے اور اس کی اب کیوں ضرورت پیش آئی ہے۔ جس پروزارتِ قانون کے حکام نے بتایا کہ منی بل پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پیش ہو جاتا ہے۔

چیئرمین کمیٹی بولے؛ گزشتہ 10 سال میں تو ایسا ہوتا نہیں دیکھا، کمیٹی کوئی حکومتی بل تب تک منظور نہیں کرے گی جب تک وزیر خزانہ خود آخر بریف نہیں کرتے۔ ’اگر وزیر خزانہ نہ آئے تو کوئی حکومتی بل کلیئر نہیں کرنا چاہیے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار  معاشی معاملات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔‘

چیئرمین کمیٹی قیصر شیخ کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ یہاں آکر جواب دیں ورنہ وہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیدیں گے۔

’جو 13فیصد پر ’ہاٹ منی‘ آئی اس سے فائدہ اٹھانے والے کون تھے؟ اس سے امیر ترین لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا، ان کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔ اختیارات وزیر خزانہ کے پاس ہیں وہ آکر کمیٹی کو اصل صورتحال بتائیں۔‘

وزیر مملکت برائے خزانہ کا کہنا تھا کہ ملک کی مکمل مالی صورتحال آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔ ہم آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کے مرحلہ میں ہیں۔ مالی خسارہ ہدف میں رکھنے کے پابند ہیں۔ آئی ایم ایف کوبتایا ہے جب وزارت پیٹرولیم قابل عمل طریقہ کار تیار کرلےگی تو انہیں بھی اعتماد میں لیا جائےگا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن عمرحمید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں 21 ارب روپے کی فنڈنگ پر جواب دینا ہے، الیکشن کے لیے بجٹ میں صرف 5 ارب روپے جاری ہوئے۔

رکن کمیٹی برجیس طاہر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کو ان حالات میں پیسے نہیں دے سکتے۔ انہوں نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سن لیں آپ کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

’الیکشن ایک وقت میں کرائیں ورنہ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھےگا۔ صرف پنجاب میں الیکشن ملک اور معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔ سپریم کورٹ کے 8 ججز کو صرف پنجاب کے الیکشن کی فکر ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی کی توجہ طلبی اور جرمن چانسلر کی دوری، بھارتی وزیراعظم ایک بار پھر مذاق کا نشانہ بن گئے

ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی کا سامنا ہوگا، طلال چوہدری

بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے

دھند کے باعث پاکستان میں فضائی آپریشن متاثر

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘