ضلع راولپنڈی میں 5 ہزار سے زائد آوارہ کتوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟

جمعہ 6 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی پہلی اینیمل لا فرم کے بانی التمش سعید ایک بار پھر آوارہ جانوروں کے حقوق کے لیے میدان میں آگئے۔

التمش سعید اس وقت راولپنڈی میں 5200 آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف عدالتی مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آوارہ کتوں سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے؟

التمش سعید کیس کے ایک حصے کے طور پر 5200 آوارہ کتوں کو مارنے کے بجائے ان کی نس بندی اور ویکسینیشن کے لیے مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔ ضلع کونسل راولپنڈی فی الحال اس مقصد کے لیے مہر بند بولیاں طلب کر رہی ہے جو کتے کی پیدائش پر قابو پانے کی پالیسی کے مطابق ہے۔

5200 کتوں کو پکڑ کر محکمہ لائیو اسٹاک کو ان کی ویکسینیشن اور نس بندی کے لیے بھیجنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس درخواست کے لیے کسی بھی کامیاب بولی دہندہ کو کام شروع کرنے سے پہلے ضلع کونسل راولپنڈی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے۔

التمش سعید کے مطابق آوارہ کتوں کی حفاظت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہونی چاہیے، جنہیں آبادی پر قابو پانے اور اس سے زیادہ کی خاطر اکثر بڑی تعداد میں مار دیا جاتا ہے۔

التمش سعید پاکستان کی پہلی اینیمل ویلفیئر لا فرم بھی چلاتے ہیں اور ایک وکیل ہیں جو پورے پاکستان میں جانوروں کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری مہم: صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسپتال پر حملے کا دعویٰ جھوٹ، افغانستان پوزیشن واضح کرے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے ساتھ، عطا تاڑ

حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کو غیر ملکی سرمایہ کاروں تک توسیع دے دی

جہاں جہاں اور جس چیز سے ملک کو خطرہ ہے اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

دہشتگردوں کا نیا پروپیگنڈا، ٹرمپ عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے

کسی بھی مسئلے پر زیادہ سوچنا پیچیدہ مسئلہ ضرور، لیکن اس کا آسان حل کیا ہے؟

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا