کتا انسان کے وفادار ترین جانوروں میں سے ایک ہے۔ یہ اپنے مالک کی باتیں خوب سمجھتا ہے اور وقت پڑنے پر اس کے لیے اپنی جان بھی قربان کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیرس اولمپکس: امریکی میڈلسٹ نے اپنا گولڈ میڈل کتے کو کیوں دیا؟
یونیورسٹی آف ایریزونا کے محققین کی طرف سے کی گئی ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انسانوں اور ان کے بہترین ساتھی کتوں کے درمیان دوستی تقریباً 12 ہزار سال پہلے شروع ہوئی تھی۔

اسکول آف اینتھروپولوجی کے اسسٹنٹ ریسرچ پروفیسر فرانکوئس لانو کی سربراہی میں محققین نے سنہ 2018 میں الاسکا میں سوان پوائنٹ نامی قدیم آثار قدیمہ کے مقام پر ایک بالغ کتے کی ٹانگ کی ہڈی کا پتا لگایا۔
مزید پڑھیے: جاسوس کتوں کے بعد اب ایجنٹ چوہے بھی سراغ رسانی کرنے کے لیے تیار
ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ کتا تقریباً 12,000 سال قبل آئس ایج کے اختتام کے قریب کے دور میں زندہ تھا اور انسانوں کے ساتھ قریبی رابطے میں تھا۔

باقیات کے کیمیائی تجزیوں میں سالمن پروٹین کا ایک اہم حصہ ظاہر ہوا جو بتاتا ہے کہ کتا باقاعدگی سے مچھلی کھا رہا تھا۔ خاص طور پر اس وقت علاقے میں کتے مچھلی نہیں کھاتے تھے اور زمین پر ہی شکار کیا کرتے تھے لیکن اس جانچ سے معلوم ہوا کہ اس کتے کے انسانوں پر انحصار کے باعث اسے مچھلی ملا کرتی ہوگی۔
جون 2023 میں قریبی جگہ پر 8,100 سال پرانے ایک کتے کے جبڑے کی ہڈی کی ایک اور دریافت نے بھی اسی طرح کی علامات ظاہر کی تھیں۔

دونوں دریافتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انسانوں اور کتوں کا آپس میں تعلق تھا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ انہوں نے سب سے قدیم پالتو کتے امریکا میں دریافت کیے تھے۔
مزید پڑھیں: جانوروں کے مخلتف جذبات کی ترجمانی کرتی حیرت انگیز تصاویر
یہ مطالعہ سائنس دانوں کے لیے نئی راہیں کھولتا ہے اور یہ تلاش کرنے کے لیے کہ کتوں نے ہمارے گھروں میں ہمارے ساتھ رہنا کب شروع کیا تھا۔














