سعودی معاونت سے دستاویزات میں جعلسازی کرنیوالوں کو پاکستان میں ہی پکڑا جاسکتا ہے، محسن نقوی

بدھ 18 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے تعاون سے پاسپورٹ میں جعلسازی اور کاغذات میں ردوبدل کرنے والوں کو پاکستان میں ہی پکڑا جا سکتا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان خیالات کا اظہار ریاض میں سعودی عرب کے ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کے تفصیلی دورے کے دوران سعودی ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کے قائمقام ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع کے ساتھ ملاقات میں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب پاکستان میں مزید 600 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، دونوں ممالک میں اتفاق

سعودی ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ آمد پر میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع نے وزیر داخلہ محسن نقوی کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کے مختلف شعبے دیکھے اور کال سنٹر کا بھی معائنہ کیا۔

انہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ میں جدید کال سنٹر کے قیام کو سراہا، انہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ میں ایڈوانس ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا اور پاسپورٹ کے جدید نظام کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں: وی سیمینار: سعودی عرب پاکستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے، سابق سعودی سفیر

وزیر داخلہ محسن نقوی نے میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع کے ساتھ پاسپورٹ کی وصولی سے اجرا تک کا نظام سہل بنانے اور جعلسازی کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں ای گیٹز پر بھی تفصیلی بات چیت  کی گئی۔

اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان میں  پاسپورٹ نظام کو مزید آسان اور فول پروف بنانے کے لیے سعودی ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کی معاونت سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریاض میں پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے داخلہ کی اہم ملاقات

انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون سے عوام کو سہولت ملے گی اور دھوکہ دہی سے نجات ملے گی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سعودی ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کے کال سینٹر کی طرز پر پاکستان میں بھی کال سینٹر بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاسپورٹ میں ردوبدل و جعلی کاغذات پر سعودی عرب جانے والے 3700 پاکستانیوں کو سعودی حکام نے اپنے ائر پورٹس پر پکڑا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp