علی چوہدری کا 2060 کا اسلام آباد   

اتوار 5 جنوری 2025
author image

صنوبر ناظر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’جی میں آپ کی ہی گلی کے آخری گھر میں رہتا ہوں ـ 7 ساڑھے 7 کے درمیان آپ کے گھر موجود ہوں گا‘، یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ میں شش وپنج میں مبتلا تھی کہ نہ جانے تھیٹر کی الف ب سے واقف بھی ہے یا ملنا یونہی وقت کا زیاں ہوگا۔

ساڑھے 7 بجے بیرونی دروازے کی گھنٹی بجی۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک لحیم شحیم 28،30 سالہ ملنگ سا شخص کھڑا تھا۔ سر بالوں کی جھنجھٹ سے مکمل آزاد اور چمکدار حد تک صفا چٹ تھا۔ تاہم گول چہرے پر مارکسی داڑھی خوب جچ رہی تھی اور اسے اپنی اس خوبی کا بخوبی احساس بھی تھا۔  اُچنگے سے فلیپر ٹائپ پاجامے پر کھلے گلے کی ایک ہم رنگ چھوٹی سی قمیض پر چادر لپیٹے علی چوہدری سے پونے 2 سال قبل یہ میری پہلی ملاقات تھی۔

کچھ دیر کی ملاقات 2 گھنٹے پر محیط ہو گئی تھی۔ ایسا لگا  کہ علی کے پاس وقت کم اور کام زیادہ ہیں جنہیں جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے۔ وقت چونکہ رات کےکھانے کا ہوچلا تھا تو جو کچھ گھر میں پکا ہوا تھا سامنے رکھ دیا جو علی نے بنا کسی حیل و حجت کے مزے سے کھایا۔

’میری پوری زندگی فرانس میں بسر ہوئی ہے۔ گھر والے اب بھی وہیں مقیم ہیں۔ میں اسلام آباد اکثر آیا کرتا تھا۔ اس بار یہیں مستقل ڈیرہ ڈالنے کی غرض سے آگیا ہوں۔

مجھے حیرانی ہوئی کہ ایسے وقت جب ملک کے نوجوان قطار اندر قطار بیرون ممالک سدھارنے کی خاطر ویزا دفتروں کے باہر سوکھ رہے ہیں،  یہ عجب جوان ہے جو یورپ چھوڑ کر یہاں بسنے چلا آیا ہے ـ

میں نے طنزیہ کہا ’کتنا عرصہ یہاں رہ پائیں گے آپ ؟ ایک سال میں ہی کہیں فیصلہ نہ بدلنا پڑ جائے۔

’نہیں!  اب تو جب تک زندگی ہے میں یہی ہوں۔

جب 15 سال کا تھا تب سے ارادہ پختہ تھا کہ پاکستان واپس جا کر کچھ کام کرنا ہے۔‘

چہرے پر وہی دبی دبی مدھم مسکراہٹ تھی لیکن جواب حتمی تھا۔

’جلد اپنے آبائی شہر لالہ موسیٰ میں ایک فیسٹیول منعقد کررہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ سوانگ تھیٹر ہمارے لیے کوئی اسٹیج پلے تیار کرے۔ ڈرامہ سادہ زبان میں ہو لیکن اس میں پیغام بہت پاورفل ہونا چاہیے‘۔

وہ زندگی سے بھرپور نوجوان نظر آیا۔ تھیٹر کے موضوع کے حوالے سے ذرا کنفیوز تھا لیکن کچھ ہٹ کر کرنے کی خواہش نمایاں تھی۔ 30 سالہ علی میں ایک خاص قسم کی انکساری، ملنساری دھیماپن اور پختگی نمایاں تھی جیسے آگ کی ہلکی آنچ پر تپا ہوا کندن ہو۔ کوئی ہینکی پینکی نہیں، نہ کوئی بڑھکیاں اور نہ بَڑ بولا پن۔ بولنے سے زیادہ سننے میں دلچسپی ایسی جیسے کہ کچھ اہم کام کا ارادہ باندھنے سے پہلے سب کی رائے جاننا چاہتا ہو۔ دوران گفتگو ایک فون کال آئی تو پُراعتماد لہجے میں فرنچ میں بات کرنے لگا۔

فون بند ہوا تو وہ پھر گویا ہوا۔

’آفس کے لیے کوئی جگہ ڈھونڈ رہا ہوں تاکہ ایک ٹیم کے ساتھ مل کر کچھ اسٹوری ٹیلنگ، تھیٹر، فلم اور دستاویزی فلمیں بنائیں بھی اور دکھائیں بھی۔‘

ملاقات اچھی رہی لیکن چونکہ ہماری ٹیم کسی اور پروجیکٹ میں مصروف تھی تو لالہ موسیٰ جا کر تھیٹر کرنے سے معذرت کرلی۔

عرصے تک پھر کوئی رابطہ نہ ہوا۔ ہاں کسی پروگرام یا سیشن میں سرسری دعا سلام ہوجایا کرتی تھی۔ پہلی ملاقات کے 2،4 ماہ بعد ایک روز گھر سے کہیں جانے کے لیے باہر نکلی تو سامنے علی اسی ملنگانہ حلیہ میں پیروں میں چپل پہنے سامنے سے آتا نظر آیا۔ ہم وہیں کھڑے کھڑے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے لگے۔

’آئی ایٹ 2 میں ایک جگہ لے لی ہےـ ابھی سیٹنگ ہو رہی ہے جلد آپ کو تشریف لانے کی زحمت دوں گا‘۔

اس بات کو بھی 2 ماہ گزر گئے۔ پھر اچانک ایک روز  علی چوہدری کی کال آئی آپ پیر کی شام 5 بجے ہمارے آفس ’یوگِن اسٹوڈیو‘ آ سکتی ہیں؟ میں آپ کو اپنی ٹیم سے ملوانا چاہتا ہوں۔  دوسری اہم بات یہ کہ ’2060 کا اسلام آباد کیسا ہو گا‘ کے نام سے ایک ڈاکیومینٹری بنا رہے ہیں جس میں اسلام آباد میں پرفارمنگ آرٹ سے وابستہ لوگوں کے انٹرویوز شامل ہوں گے۔ اس سلسلے میں ہم آپ سے بھی انٹرویو لینا چاہتے ہیں۔ کل آپ آئیں تو اس پر بات کرتے ہیں۔

میں نے ہامی بھر لی اور یوگِن کلب کے واٹس ایپ گروپ کا حصہ بھی بن گئی۔

یوگِن جاپانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’پراسرار خوب صورتی‘۔

پیر کو میں یوگِن اسٹوڈیو میں علی اور ان کی ٹیم کے ہمراہ بیٹھی تھی۔ یوگِن اسٹوڈیو میرے گھر سے 2 منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ علی نے اپنے آفس کا دورہ کروایا۔ بیسمنٹ میں جانے سے پہلے خود نے بھی جوتے اتارے اور مجھے بھی بتایا کہ ’نیچے ہم فلم اسکریننگ اور پرفارمنس کرواتے ہیں۔ فل کارپیٹڈ ہونے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بٹھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔‘

تفصیل سے ڈاکیومینٹری اور فلموں پر بات ہوئی۔

’ فنون لطیفہ میرا شوق ہے۔ تعلیمی پس منظر ڈاکیومینٹری میکنگ نہیں بلکہ انرجی اور انفرااسٹرکچر ہے۔ اسلام آباد کی سب سے خوب صورت سڑک گارڈن ایونیو ہے۔ جہاں شکر پڑیاں میں ایک نامکمل اوپن ایئر تھیٹر ویران پڑا ہے ہم اسے تھیٹر اور کلچرل پرفارمنگ آرٹ کے لیے استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں،  اگر سی ڈی اے سے بات بن جائے تو اس کی بحالی کا کام جلد از جلد شروع کر دیا جائے گا۔‘

علی اور ان کی ٹیم کی فن سے لگاؤ دیکھ کر میں کافی متاثر ہوئی۔

غالباً ایک یا 2 ہفتے بعد یوگِن اسٹوڈیو کی میڈیا ٹیم میرے گھر موجود تھی۔ علی کے چہرے پر وہی دھیمی سی مسکراہٹ سجی تھی اور لہجہ پراعتماد تھا۔ کئی گھنٹے کی ریکارڈنگ میں ایک بار بھی علی چوہدری کے چہرے پر اکتاہٹ یا ناگواری کے تاثرات نظر نہ آئے۔  اپنی ٹیم کے ہمراہ علی کو انہماک سے انٹرویو کرتے ہوئے، کئی موضوعات پر سوال اٹھاتے اور تحمل و اطمینان سے جواب سنتے دیکھا تو فوراً  ذہن میں  خیال کوندا کہ علی میں ایک اچھا پوڈکاسٹر اور موڈریٹر بننے کی بھی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

خوشی ہوئی کہ ملک کے ناآسودہ حالات کے باوجود ابھی بھی نوجوانوں میں امید کی کرن باقی ہے۔

انٹرویو تمام ہوا تو علی نے مؤدبانہ شکریہ ادا کیا اور پھر وہی کہ کئی مہینوں تک ہمارا رابطہ نہ ہوا۔ اکتوبر کی ایک دوپہر پھر علی کی کال آئی۔

’ڈاکیومینٹری کا رف کٹ تیار ہے اور مقامی ہوٹل میں اگلے ہفتے اسکریننگ ہے۔ آپ کی شرکت لازمی ہے۔‘

میں نے بتایا کہ میں اگلے 2 ہفتے شہر سے باہر ہوں سو نہ آنے پر پیشگی معذرت۔

’چلیں یہ تو رف کٹ ہے۔ جنوری یا فروری تک ڈاکیومینٹری فائنل ہو کر تیار ہو جائے گی تب آپ کا کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔‘

میں نے اگلی بار آنے کا وعدہ کیا اور پھر جھمیلوں میں بات آئی گئی ہوگئی۔ بس سرراہ ایک یا 2 بار سرسری آمنا سامنا ہوا لیکن بھاگ دوڑ کے دور میں دوبارہ بات چیت کا موقع نہ ملا۔

دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔

’انا للہ وان الیہ راجعون‘

25  دسمبر کی دوپہر سے یوگِن کلب کے واٹس اپ گروپ میں کسی اسامہ چوہدری کے کار ایکسیڈینٹ میں انتقال کے خبر تھی۔

کچھ ہی دیر میں گروپ کے ممبران کے تعزیتی پیغامات کی بھرمار ہو گئی۔ کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون اسامہ؟  تمام تعزیتی پیغامات مرنے والے کی تعریفوں اور اس کے اچانک اس طرح دنیا سے گزر جانے کے صدمے سے بھرے ہوئے تھے۔ میں دوبارہ اپنے بکھیڑوں میں مصروف ہوگئی۔  پورا دن ایسے ہی گزر گیا۔

دوسرے روز علی چوہدری کے کزن اور یوگِن اسٹوڈیو کے کو فاؤنڈر اسد چوہدری  نے مجھے واٹس ایپ کیا جس میں علی چوہدری کی مخصوص دھیمی مسکراہٹ والی تصویر نمایاں اور نیچے  کار حادثے میں اس کی اندوہناک موت کی خبر  میری نظروں کے سامنے تھی۔

او میرے خدا!  یہ کیا ہوا؟  ایک ہنستا مسکراتا امنگوں سے بھرپور نوجوان جو فرانس کو خیرباد کہہ کر کتنی امیدیں لے کر پاکستان آیا اور رانگ سائڈ پر آتی گاڑی کو بچاتے ہوئے اپنی جان سے گزر گیا۔

علی چوہدری! جس کا پورا نام علی اسامہ چوہدری تھا لیکن نہ کبھی اس نے بتایا نہ کبھی میں نے پوچھا کہ اس کا پورا نام کیا ہے۔

پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح اب اسلام آباد میں بھی رانگ سائڈ ٹریفک ایک عام بات ہو گئی ہے۔ یہ رانگ سائڈ سے آنے والی گاڑیاں لمحہ بھر میں ایک جیتی جاگتی زندگی کا چراغ گل کر دیتی ہیں۔

علی چوہدری کی موت شاید بہت سے لوگوں کے لیے ایک عام سی بات ہو کونکہ یہاں انسانی جان بہت ارزاں ہے۔  لیکن اگر کوئی نوجوان کچھ انوکھے خواب آنکھوں میں سجائے ایک رنگ برنگی دنیا چھوڑ کر اس بانجھ معاشرے کا رخ کرتا ہے تو اس کی موت ایک سانحے سے کم نہیں۔ علی نے تو ابھی بہت سے ادھورے کام نمٹانے تھے۔ کئی نئے کارنامے انجام دینے تھے۔

میں نے یونہی انٹرویو والے دن علی سے پوچھا تھا کہ آپ ہم سب سے تو یہ سوال پوچھ رہے ہیں لیکن آپ خود اسلام آباد کو 2060 میں کیسا تصور کرتے ہیں؟

’ میں 2060 کے اسلام آباد کو سرسبز اور آرٹ و فنون کا مرکز بنتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں جہاں سب بنا خوف و خطر امن اور محبت کے گیت گنگنائیں۔‘

خدا جانے 2060 کا اسلام آباد کیسا ہوگا ؟ ہاں البتہ 2025 کا اسلام آباد علی اسامہ چوہدری کے بنا اداس ہے کہ سمے سے پہلے کسی کو نہیں جانا چاہیے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صنوبر ناظر ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ تاریخ میں ماسٹرز کر رکھا ہے جبکہ خواتین کی فلاح اور مختلف تعلیمی پراجیکٹس پر کام کر چکی ہیں۔ کئی برس سے قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp