26ویں آئینی ترمیم کی حمایت پر صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں رؤف عطا کو سپریم کورٹ کے سینیئر وکلا سمیت 50 سے زائد ایسوسی ایشن کے ارکان کی تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں رؤف عطا کو لکھے ایک کھلے خط میں سپریم کورٹ کے 53 سینیئر وکلا نے بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کی سول سوسائٹی 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف تحریک میں ساتھ دے، وکلا
سینیئر وکلا منیر اے ملک، حامد خان ،علی احمد کرد، عابد زبیری،سلمان منصور اور عبداللہ کنگرانی کی جانب سے لکھے خط میں 26ویں آئینی ترمیم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

’ہم، زیر دستخط۔۔۔ یہ خط بار ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے 26 دسمبر کے بیان پر اپنی شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہیں، ہم عدلیہ کی آزادی کو مجروح کرنے اور اس پر انتظامی غلبے کی کوششوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہیں۔‘
وکلا کی جانب سے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے تمام ججز پر مشتمل فل کورٹ کا 26ویں ترمیم کیخلاف زیر التوا چیلنجز کی سماعت اور فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی نے بھی 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کردیا
’26ویں ترمیم کے غیر آئینی ہونے کے بارے میں کسی بھی مخالف خیالات سے قطع نظر، ہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس مطالبے پر قائم رہے کہ سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل ایک مکمل عدالت 26ویں ترمیم کے خلاف زیر التوا چیلنجز کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ کرے۔‘
خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی قانونی حیثیت اور اعتبار کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ کے ذریعے 26ویں ترمیم کے خلاف زیر التوا اپیلوں کا تعین کرنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں:26ویں آئینی ترمیم میں کالا سانپ کسے کہا گیا؟ بلاول بھٹو نے وضاحت کردی
’آئین شہریوں اور ریاست کے درمیان سماجی معاہدہ ہے، اور اس طرح کی سنگین ترامیم تمام شہریوں کو متاثر کرتی ہیں، یہ کیس ہمارے آئینی نظام کے مستقبل کے طریقہ کار کا تعین کرے گا اور اسے ایک مکمل عدالت کے ذریعے سنا جانا چاہیے۔‘














