وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ جب تک بجلی کی قیمت کم نہیں ہوگی ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ رواں ہفتے بجلی کی قیمتیں کم کرنے کے دستیاب آپشنز پر غور کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس میں بتایا ہے کہ رحیم یار خان میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے خوشگوار ملاقات ہوئی اور سرمایہ کاری سے متعلق گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں شیخ محمد بن زاید النہیان نے جنوری میں پاکستان کی طرف سے 2 ارب ڈالرز کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کردی ہے۔ انہوں نے خود ہی اس کی پروپوزل دی جس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب تک بجلی کی قیمت کم نہیں ہوگی ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے تفصیلی میٹنگ کرکے بجلی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ہمارے پاس جو آپشنز ہیں ان پر غور کریں گے۔
اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھ سکتا ہے مگر بدقسمتی سے یہ کوئی خاطرخواہ حصہ نہیں ڈال سکا اور آج یہ ادارہ بوجھ بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سمیڈا کا بورڈ تک نہیں تھا ہم نے میٹنگ کرکے بورڈ کو مکمل کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاق اور صوبے مل کر اس ادارے کو کامیاب بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے:وزیراعظم کی امارات کے صدر سے ملاقات، سرمایہ کاری پر بھی اہم بات چیت
وزیراعظم نے ٹیکسٹائل کے ایکسپورٹ میں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہوا ہے کہ یہ ہماری ایکسپورٹ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ماہ انڈونیشیا کے صدر پاکستان تشریف لارہے ہیں۔ انڈونیشیا کو ہم حلال گوشت اور چاول ایکسپورٹ کرسکتے ہیں۔ انڈونیشیا کے صدر سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ پر بات ہوگی۔
وزیراعظم نے بگن میں سرکاری قافلے پر فائرنگ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوئر کرم میں امن معاہدے کے بعد جو حملہ ہوا وہ مذموم حرکت ہے اور امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے فائرنگ میں زخمی ڈپٹی کمشنر اور دیگر اہلکاروں کی صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔
وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ اور اس کے خلاف جاری حالیہ کریک ڈاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مکروہ دھندے کے خلاف یکسوئی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ اور ان کی ٹیم اس میں بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔














