سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

منگل 3 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محض سوری کہنا کافی نہیں ہوتا، کیونکہ حقیقی معافی الفاظ سے نہیں بلکہ احساس، ذمہ داری اور تبدیلی کے ارادے سے جڑی ہوتی ہے۔

اکثر ہم معافی کے ساتھ لیکن لگا کر بات کا رخ موڑ دیتے ہیں یا رسمی انداز میں بات ختم کرنا چاہتے ہیں، جس سے دلوں کی دوری کم ہونے کے بجائے بڑھ جاتی ہے۔

سچی معافی کا مطلب ہے اپنی غلطی کا اعتراف، بغیر کسی بہانے کے ذمہ داری قبول کرنا، سامنے والے کے دکھ کو سمجھنا اور آئندہ بہتری کا عزم کرنا۔

نفسیات بھی یہی کہتی ہے کہ دفاعی معافی رنجش بڑھاتی ہے جبکہ مخلص معافی اعتماد بحال کرتی ہے۔

ہمارا دین بھی توبہ، ندامت اور اصلاح کا درس دیتا ہے اور معاف کرنے کو اجر کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ یاد رکھیں، معافی مانگنے سے عزت کم نہیں ہوتی بلکہ رشتے محفوظ اور مضبوط ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیا عالمی مشن: کیا اب ہم انسانی اور اے آئی تخلیق میں فرق کر سکیں گے؟

پشاور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت، اہم قانونی نکات پر بحث

واٹس ایپ میں گیسٹ موڈ کی محدود بیٹا ٹیسٹنگ، بغیر اکاؤنٹ والے صارفین بھی استعمال کرسکیں گے

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقات کرا دی گئی

پی ایس ایل: آسٹریلوی کرکٹر مارنس لیبوشین نے حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین کی کپتانی سنبھال لی

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا