پشاور میں ہاتھوں سے بننے والے تانبے پیتل کے ظروف کا قدیم کام

بدھ 8 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاورمیں آج بھی تانبے کے برتن ہاتھوں سے بنائے جاتے ہیں۔ گو افغان جنگ کی وجہ سے یہ کاروبار بری طرح متاثر ہوا لیکن سنہ 2018 سے  اس میں دوبارہ بہتری آنے لگی اور  مانگ میں اضافہ ہونے لگا۔

پشاورمیں ظروف سازی کا یہ کارخانہ 70 سال سے بھی پرانا ہے جہاں روایتی اوزاروں سے تانبے کے برتن اور ڈیکوریشن پیس بنائے جاتے ہیں۔ اس کے بنانے والوں کا یہ فن ان کے آبا و اجداد سے ان میں منتقل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور کا مشہور قصہ خوانی بازار اب کس حالت میں ہے؟

پیتل کی ظروف سازی کا کاروباربھی صدیوں پرانا ہے۔ افغان جنگ نے اسے بھی متاثر کیا تاہم سنہ 2018 سے اس کی مانگ میں بھی دوبارہ اضافہ ہورہا ہے۔ پیتل کے ایک ایک برتن کی تیاری میں وقت اور خرچہ زیادہ ہونے پر ان کی قیمتیں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔

ان برتنوں کی قیمتیں زیادہ ہونے پر ہر کوئی انہیں خرید نہیں پاتا اور یوں اس کا کاروبار کرنے والے بھی اس پر کافی ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پشاور کے قدیمی بابا نیکا کے پائے آخر اتنا مشہور کیوں ہیں؟

ماہرین طب کے مطابق پیتل کے برتنوں کے استعمال سے انسانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا: امن کمیٹی کے نام پر مبینہ دہشتگرد سرگرمیاں، جنوبی اضلاع میں شہری عدم تحفظ کا شکار

سانحہ پمز، بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟، تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

خیبر پختونخوا: بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کا منصوبہ ناکام

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں