مردان میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ نے خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر میں نامزد ملازمین کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق مردان میڈیکل کمپلیکس ایک طبی ادارہ ہے جس کا اس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ’یہ ایک ذاتی فعل ہے، جسے ادارے سے منسوب کرنا اور بدنام کرنا افسوسناک امر ہے جس سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیں: مردان: سرکاری اسپتال میں خاتون سے زیادتی،’کئی روز تک دوست کے ساتھی نے اپنے ساتھ رکھا‘
اعلامیے کے مطابق انتظامیہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ملازمین سے خود کو الگ کرتے ہوئے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔
’مردان میڈیکل کمپلیکس میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اہلکار مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی سمیت کئی ایک شعبوں میں خدمات انجام دے رہی اور اسپتال انتظامیہ ان کی خدمات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔‘
مزید پڑھیں:مردان میڈیکل کمپلیکس میں ایم اوز کی بھرتیوں میں بے قاعدگیوں کا انکشاف
اسپتال ترجمان کے مطابق مردان میڈیکل کمپلیکس میں جنسی ہراسانی کے حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں جس کے مطابق جرم ثابت ہونے پر ملازمت سے برخواستگی سمیت سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔














