سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے زلزلہ متاثرین بحالی سے متعلق وفاقی و صوبائی حکومت اور ارتھ کوئیک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی یعنی ایرا سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل پاکستان سے زلزلہ متاثرین فنڈز کی آڈٹ رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بینچ نے زلزلہ متاثرین کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بینچ: 2005 زلزلہ متاثرین کی پراگرس رپورٹ طلب، متفرق مقدمات کی سماعت
دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ اکتوبر 2025 میں زلزلے کو 20 سال ہو جائیں گے، کیا زلزلہ متاثرین کا 50 سالہ منصوبہ ہے، لگتا ہے 50 سال میں بھی متاثرین کی آبادکاری کے منصوبے مکمل نہیں ہوں گے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر وسائل نہیں تو حکومت ایسے منصوبوں کا اعلان کیوں کرتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے دریافت کیا کہ زلزلہ متاثرین کے لیے کتنے مکانات تعمیر کیے گئے، کتنے متاثرین کو کاروبار میں مدد کی گئی۔
مزید پڑھیں: زلزلہ متاثرین کے فنڈز کدھر گئے اور کہاں خرچ ہوئے، سپریم کورٹ کا سوال
درخواست گزار وکیل نے کہا حکومت نے نیو بالاکوٹ شہر بنانے کا اعلان کیا تھا، سپریم کورٹ نے نیو بالاکوٹ سٹی کے لیے 30 ماہ کا وقت دیا تھا تاہم ابھی تک اس منصوبے کے ضمن میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
ایرا کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے 14 ہزار سے زیادہ زلزلہ متاثرین کے لیے منصوبے مکمل کیے ہیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ مکمل کیے جانیوالے منصوبے کہاں ہیں، کیا انسانوں کے لیے منصوبے بنائے گئے یا جنوں کے لیے۔
مزید پڑھیں: افغان کرکٹر راشد خان کا ورلڈکپ میچز کی فیس زلزلہ متاثرین کو عطیہ کرنے کااعلان
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کیوں نہ چیئرمین ایرا کو عدالت میں طلب کیا جائے، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ڈونرز کا کتنا پیسہ آیا، وہ پیسہ کہاں گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ وہ پیسہ تو سارا خرچ ہو گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے زلزلہ متاثرین کی بحالی سے متعلق وفاقی وصوبائی حکومت اورایرا سے رپورٹ طلب کرلی، آئینی بینچ نے آڈیٹرجنرل پاکستان سے زلزلہ متاثرین فنڈز کی آڈٹ رپورٹ بھی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔














