اپرکوہستان میں آج بھی خالص اور دیسی خوراک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں شہری ایک حجرے میں جمع ہوتے ہیں جہاں ہر گھر سے روزے دار اپنے ساتھ ساگ، لسی، دودھ اور دیسی گھی لاتا ہے اور سب ملکر وہاں افطاری کرتے ہیں۔
روایتی افطاری میں تمام اشیا خالص ہوتی ہیں حتی کی پانی بھی چشموں کا استعمال کیا جاتا ہے اور کھانے کے برتن بھی ایک حد تک خود لکڑی کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ واحد افطاری ہے جہاں بازار کی یا کوئی بھی مصنوعی اجزا استعمال نہیں کی جاتی۔
خالص پانی میں ساگ پکایا جاتا ہے، اس کے علاوہ ہر گھر میں مویشی ہوتے ہیں جن کے دودھ سے لسی اور گھی تیار ہوتا ہے۔ یہاں بجلی ہے مگر کسی گھر میں فریج رکھنے کی روایت نہیں لہٰذا کیمکیل سے پاک اور خالص خوراک کے باعث یہاں کے لوگ شوگر، بلڈ پریشر، دل کے عارضے اور موٹاپے جیسی بیماریوں سے ناواقف ہیں۔













