جمعہ کو عید ہو تو حاکمِ وقت کا سنگھاسن ڈول جاتا ہے؟

جمعہ 21 اپریل 2023
author image

بلال غوری

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شوق کمال اور خوف زوال کے باعث بیشتر حکمران ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

فرانسیسی رہنما نپولین جس کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ اپنی تقدیر خود تحریر کرنے کا قائل تھا، وہ بھی اس قدر توہم پرست تھا کہ اس نے مستقبل کا حال بتانے والے ایک نجومی کے کہنے پر اپنا نام تبدیل کرکے نپولین بونا پارٹ رکھا۔

مغل بادشاہوں کے دربار میں ستارہ شناسوں اور جوتشیوں کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔بادشاہ سلامت کب دربار میں تشریف لائیں گے اور کب تک محل میں قیام کریں گے، دربار میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے رکھنا ہے یا بایاں، شکار کے لیے نکلنے کا موزوں وقت کونسا ہے، کس روز کس رنگ کا لباس زیب تن کرنا مناسب رہے گا، فتوحات کی غرض سے لشکر کشی کرنی ہو تو کب سفر شروع کیا جائے، یہ سب تفصیلات، قیافہ شناس اور علمِ نجوم پر دسترس رکھنے والے وہ درباری طے کیا کرتے جنہیں بادشاہ سلامت کی قربت حاصل ہوتی۔

مستقبل کا حال جاننے کے لیے جوتشیوں اور نجومیوں کا سہارا لینا ہر دور کے حکمرانوں کا محبوب ترین مشغلہ رہا ہے۔ اپنے کل کے بارے میں جاننے کا اشتیاق اس اندیشے اور خوف کی کوکھ سے جنم لیتا ہے کہ کہیں ان کا تاج و تخت چھن نہ جائے ‘ان کے اقتدار پر کوئی قبضہ نہ کرلے‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ قتل کردیے جائیں یا جلاوطن ہونا پڑے۔ پرانے زمانے کے بادشاہ فال نکلواتے تھے ‘زائچے بنواتے تھے‘ کاہنوں اور جوتشیوں سے صلاح مشورے کیا کرتے تھے اور آج بھی کوئی حکمراں تعویز باندھتا ہے، کوئی امام ضامن پر بھروسہ کرتا ہے، کوئی اپنے پیر صاحب سے مشورہ کرتا ہے۔

امریکی تاریخ دان آڈری ٹرشکی جنہوں نے ‘اورنگزیب: دا مین اینڈ مِتھ’ نامی کتاب میں مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیوں کا پردہ چاک کیا ہے، وہ لکھتی ہیں کہ ’اورنگزیب کے دربار میں ہندو اور مسلمان دونوں قسم کے نجومی موجود ہوتے اور وہ ان کے مشوروں کی روشنی میں معمولاتِ زندگی ترتیب دیا کرتے تھے۔ ایک بار وہ جنوبی ہند میں قیام پذیر تھے تو سیلاب آگیا اور یہ خدشہ پیدا ہوگیا کہ شاید ان کی شاہی قیام گاہ بھی زیرِ آب آجائے۔ اورنگزیب نے اپنے درباریوں کے مشورے سے ایک تعویز لکھ کر پانی میں ڈال دیا اور طغیانی کا سلسلہ تھم گیا۔ لیکن کوئی بھی جوتشی، نجومی یا ستارہ شناس ان کے اقتدار کو برقرار نہیں رکھ پایا اور یہ سب حکمراں مہلت ختم ہوجانے پر رُخصت ہوگئے‘۔

پاکستان میں یہ بات بہت تواتر اور تسلسل کے ساتھ کہی جاتی رہی ہے کہ اگر ایک ہی دن میں دو خطبے ہوں تو حاکمِ وقت کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پہلے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بزعم خود فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں عیدالفطر جمعے کے دن آرہی تھی تو حکومت نے اسی قسم کے خدشات کے پیش نظر اسے ایک دن آگے کردیا۔

وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف کو سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے کی بھی یہی توجیہہ پیش کی جاتی ہے کہ چونکہ ان کے ادوار میں جمعے کے دن عیدالفطر منائی گئی اور 2 خطبے ہوئے اس لیے انہیں گھر جانا پڑا۔

یونہی خیال آیا کہ کیوں نہ ان باتوں کو تاریخی حقائق کی کسوٹی پر جانچنے کی کوشش کی جائے۔

جنرل ایوب خان نے مارچ 1969 کو عنان اقتدار تازہ دم ڈکٹیٹر جنرل یحیٰ خان کے حوالے کردیا۔ اس برس عیدالفطر ان کی رخصتی کے بعد 10 دسمبر 1969 کو بدھ کے دن منائی گئی۔ لیکن اگر گزشتہ برس کا جائزہ لیں تو یکم جنوری 1968 کو پیر کے دن پاکستان میں عیدالفطر منائی گئی۔

خاص اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس سال ہمارے ہاں عیدالفطر 2 بار منائی گئی۔ دوسری مرتبہ 21 دسمبر1968 کو ہفتے کے روز چھوٹی عید منائی گئی۔ ایک سال میں 3 عیدیں اور عیدالفطر کو 2 بار سایہ فگن ہونا شاید اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ ایک اور فوجی حکمران جلوہ افروز ہونے کو ہیں۔

بہرحال 21 دسمبر 1968 کو ہفتے کے دن منائی گئی عیدالفطر کے حوالے سے یہ قیاس آرائی کی جاسکتی ہے کہ حکومت نے دانستہ طور پرجمعے کے بجائے ہفتے کو عید منانے کا فیصلہ کیا ہو تاکہ ایک دن میں 2 خطبے ہونے کی وجہ سے ایوب خان کے اقتدار کے سورج کو گرہن نہ لگ جائے۔

لیکن یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں 10 ستمبر 2010 کو جمعے کے دن عید الفطر ضرور ہوئی لیکن اگر کوئی اس کے اثرات تھے تو وزیرِاعظم 2011 میں ہی رُخصت ہوجاتے لیکن یوسف رضا گیلانی نے 31 اگست 2011ء کو بدھ کے دن بطور وزیرِاعظم ہی عیدالفطر منائی جبکہ اگلے سال جون 2012ء میں سپریم کورٹ نے انہیں توہینِ عدالت کیس میں سزا دے کر اقتدار سے محروم کیا۔

اسی طرح نوازشریف کے تیسرے دورِ حکومت میں 17 جولائی 2015 کو جمعے کے دن عیدالفطر ضرور ہوئی لیکن اگر اس کے منفی اثرات مرتب ہونا ہوتے تو نوازشریف بطور وزیرِاعظم اگلی عید کا چاند نہ دیکھ پاتے لیکن وہ 4 جولائی 2015ء کو پیر جبکہ 25 جون 2017 کو اتوار کے دن 2 مرتبہ عید الفطر منانے کے بعد 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ سے نااہل اقرار دیے گئے۔

اس بار عیدالفطر 22 اپریل 2023ء کو ہفتے کے دن ہورہی ہے مگر اس حوالے سے بھی سازشی ذہن چہ مگوئیاں کرنے میں مصروف ہیں کہ 30 روزے اس لیے پورے کیے گئے تاکہ جمعے کے دن 2 خطبے نہ ہوں۔

جب 22 مارچ کو رویت ہلال کمیٹی نے چاند نظر آنے کا اعلان کیا تو تب بھی بہت تنقید ہوئی مگر اگلے دن چاند دیکھ کر یہ اعتراف کرنا پڑا کہ رویت ہلال کمیٹی نے درست فیصلہ کیا۔

ویسے دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی تک چاند نظر آنے یا نہ آنے کی لایعنی و بے معنی بحث سے باہر نہیں نکل پائے کیونکہ ہم تو انسان کے چاند پر قدم رکھنے کے دعوے کو ہی تسلیم نہیں کرتے۔ ہمیں تو یہی کہہ کر ‘ماموں بنایا‘ گیا ہے کہ ’چندا ہمارے ماموں’ ہیں اور اس میں ایک بڑھیا بیٹھی چرخہ کات رہی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان