پاکستان کی جوڑنے والی بہت سی قوتیں ہیں۔ سیاسی جماعتیں ہیں، مذہبی جماعتیں ہیں، کرکٹ ہے، فوج ہے، ہمارے فاٹا والے اور پختون ہیں۔
فاٹا والوں کو پاکستان کو جوڑنے والی قوتیں قرار دینے پر حیرت ہونی بنتی ہے۔ آپ نے شاید اب تک ان کو صرف پاکستان کی فائٹنگ آرم کے طور پر ہی دیکھا یا سوچا ہے۔ یا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے حوالے سے ہی انہیں دیکھا ہے۔ کبھی سڑک پر چلتے ٹرکوں کو غور سے نہیں دیکھا۔
ہماری لانگ ڈسٹنس گڈز ٹرانسپورٹ پر مکمل طور پر فاٹا والوں کا ہولڈ ہے۔ بیڈ فورڈ ٹرک کا غیر پختون ڈرائیور جب پنڈی یا سکھر میں بریک لگا لیتا تھا تب بھی فاٹا سے تازہ خان کراچی سے مزار شریف تک دھواں اڑاتا جاتا تھا۔ اب یہ گوادر سے گلگت تک کے روٹ پر بھی دھوم مچاتا ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بلوچوں، سندھیوں اور ہزارے والوں کے علاوہ پختونوں کا بھی سب سے بڑا شہر ہے۔ وزیرستان سے باہر سب سے زیادہ محسود کراچی میں رہتے ہیں۔ یہ اتنے ہیں کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ایک سے 2 حلقوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں کراچی سے 2 ایم این اے سیف الرحمن اور عالمگیر خان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے جن کا تعلق وزیرستان سے ہے۔
پختون اکثریت 2 رجحانات رکھتی آئی ہے ایک قوم پرستی اور دوسرا مذہب پرستی۔ نیشنلسٹ پارٹیوں نے اور مذہبی جماعتوں بشمول جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی نے ان کو اقتدار میں زیادہ حصہ نہیں دلوایا۔ دونوں رجحانات کی ایک محدودیت رہی ہے۔ ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی بھی یہاں بڑی قوت رہی ہے مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ نوازشریف بلوچستان اور خیبر پختوںخوا دونوں صوبوں میں اتحادی ماڈل اپنا کر رخصت لے چکے ہیں۔
بظاہر ہمارے ملک میں اس وقت جو سیاسی عدم استحکام ہے یہ پنجاب کی لڑائی لگتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) یہیں طاقت کے حصول کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مارشل بیلٹ ویسے تو ایک دائرے میں کوہاٹ، مردان، صوابی اور نوشہرہ سے گھومتی جہلم تک جاتی ہے۔ لیکن فوج کی پاور بیس بھی پنجاب ہی ہے۔ پاکستان میں طاقت کا کھیل وہ جیت جاتا ہے جو پنجاب کے علاوہ پختونوں کی اکثریت کو ساتھ ملا لیتا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جے یو آئی یا متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کہہ لیں جب اپنے پورے جوبن پر تھیں تب بھی وہ بس نہیں بن سکیں جس میں بٹھا کر پختونوں کو اسلام آباد کے اقتدار تک پہنچا دیتیں۔ پیپلزپارٹی کے محدود ہونے اور مسلم لیگ (ن) کے لاتعلق ہونے کے بعد میدان خالی تھا جسے کپتان نے بھرا۔ اسلامک ٹچ جسے ہم مذاق سمجھتے ہیں اس کا تڑکا جب جلسوں میں میوزک کے ساتھ لگا اور پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانے اور پاسپورٹ کی عزت کرنے کی بات کپتان نے کی تو یہ پختونوں کا دل لے گئی۔
ہم نے کپتان کے اپنے سابق قریبی لوگوں سے سنا ہے کہ وہ اپنی فیملی کے بچوں کو عیدی تک نہیں دیتا۔ اس کنجوسی کو اگر معیار مان لیں پھر دیکھیں کہ کپتان نے خیبر پختوںخوا کو سوات موٹر وے دیا، صحت کارڈ دیا، پشاور کو میٹرو بس سروس دی۔ اس کے علاوہ صوبے کے ہر علاقے سے وفاقی وزارتوں میں نمائندگی دی۔ کوہاٹ، مردان، سوات، صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان اور نوشہرہ، ہر جگہ سے وفاقی وزرا بنائے۔ بلوچستان کی پختون بیلٹ کو بھی نمائندگی دی۔
پختون جس جس مسئلے پر حساس ہیں، پھر چاہے وہ افغانستان ہو، دہشتگردی ہو، قوم پرستی ہو، شناخت یا پھر افغان مہاجر ہوں، کپتان نے ہر ہر معاملے پر واضح موقف ضرور دیا۔ افغانوں کو شہریت دینے کی بات کی۔
جب ہم کہتے ہیں کہ فوج کے اندر سے کپتان کو اب بھی حمایت میسر ہے تو ہم 2 باتیں نظر انداز کرتے ہیں، پہلی یہ کہ فوج سب کی ہے، فوجی بھی گلی محلوں دیہاتوں سے ہی جاتے ہیں۔ مؤقف رکھتے ہیں اور رکھ سکتے ہیں۔ ان کی نوکری کی نوعیت ایسی ہے کہ خیالات کے اظہار پر پابندی ہے مگر دل میں اچھا اور بُرا تو کہہ ہی سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ فوج جن مسائل کے حوالے سے حساس ہے یعنی پختون، افغانستان، باڈر ایریا۔ غلط یا ٹھیک کو چھوڑیں لیکن ان سب معاملات پر کوئی اور پارٹی اس طرح بات نہیں کرتی جیسے کپتان کرتا ہے۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اتحاد اس معاملے پر توجہ نہیں دے پا رہا بلکہ شاید ابھی سوچا بھی نہیں ہے۔ اس کو دیکھیں گے، حل کریں گے، اپنی جگہ بنائیں گے تو بات بنے گی، اور جب تک پختون مطمئن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔
اس کا ایک زاویہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کی غیر دستاویزی معیشت دستاویزی معیشت سے بڑی ہے۔ اس غیر دستاویزی معیشت میں پختونوں کا حصہ ان کی آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ ہے۔ بات کو آدھا ادھورا چھوڑ کر یہاں ختم اس لیے کرتے ہیں کہ آپ اس زاویے سے بھی سوچیں اور حل ڈھونڈیں، بہت کچھ نیا سمجھ آئے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













