کتنے آدمی تھے؟ جنید اکبر نے صوابی جلسے کی رپورٹ مانگ لی

اتوار 9 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر خان نے پارٹی عہدیداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ رپورٹ جمع کروائیں کے کہ وہ صوابی جلسے میں اپنے ساتھ کتنے لوگ لائے تھے۔

مزید پڑھیں: ہمارے لب سی دیے گئے لیکن میری زبان بولے گی، شیر افضل مروت کی صوابی جلسے میں للکار

میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر کا کہنا تھا کہ صوابی کے زبردست جلسے پر سب کا شکر گزار ہوں، بہت بڑا اور کامیاب جلسہ ہوا تاہم تحریک انصاف میں جزا و سزا کا نظام لاؤں گا۔ ضلعی صدور، جنرل سیکریٹری اور تحصیل ناظمین 3 دن میں رپورٹ جمع کروائیں کہ کون کتنے بندےلےکر جلسے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: صوابی میں پی ٹی آئی کا جلسہ ختم: خون کا بدلہ خون لیکن نفرتیں بڑھنے سے ملک کو نقصان ہوگا، علی امین گنڈاپور

جنید اکبر نے پارٹی عہدیداروں کو ہدایت کی کہ رپورٹ ریجنل صدور کے پاس جمع کروائیں۔ رپورٹ سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی جائیں جبکہ میں خود بھی رپورٹس شیئر کروں گا۔ تمام رپورٹس عمران خان کو دی جائیں گی، پارٹی میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟