وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے افغانستان میں امن و استحکام کو خطے کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
ازبکستان میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ ہم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ پاکستان اور ازبکستان کی خوشحالی اور ترقی ہمارا مشترکہ عزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان افغانستان کے لیے اپنی خدمات بیان کرنے میں کمزور ہے، فخر کاکاخیل
شہباز شریف نے کہاکہ ہم نے ایک سال میں پاکستان کی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا ہے، شرح سود میں کمی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے، جبکہ شرح نمو میں اضافہ ہورہا ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ ازبکستان کو کراچی اور لاہور سے منسلک کیا جائےگا، ریلوے کے ذریعے تجارت اہمیت کی حامل ہے، اقتصادی زون میں سرمایہ کاری کو ممکن بنائیں گے اور سیاحت کے شعبے میں بھی مل کر کام کریں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاکہ ازبکستان پاکستان کا بااعتماد شراکت دار ہے، ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ پورے خطے کےلیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ پاکستان غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔
اس موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے کہاکہ عالمی چیلنجوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان روشن مستقبل کے لیے معاہدے بہت اہم ہیں، مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے، فضائی پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، اپنی پرخلوص دوستی کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
شہباز شریف نے مزید کہاکہ میں بہترین میزبانی پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف کا مشکور ہوں، پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات صدیوں پر محیط ہیں اور ہمارے تعلقات کی ایک تاریخ ہے، شاہراہ ریشم سے شروع ہونے والے تاریخی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ماضی مشترک ہے، ظہیر الدین بابر، امیر تیمور اور سمرقند اور بخارا کے ساتھ ہمارا ایک پرانا تعلق ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات صحیح سمت میں مثبت انداز میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ان تعلقات کو سرمایہ کاری اور تجارت کی بنیاد پر مربوط بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں افغانستان سے غیرملکی اسلحے کی کھیپ پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
انہوں نے کہاکہ ازبکستان اور پاکستان کی اسٹرٹیجک شراکت داری کی بہت اہمیت ہے، ہم ازبکستان کو ایک بااعتماد شراکت دار سمجھتے ہیں،سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔













