پاکستان افغانستان کے لیے اپنی خدمات بیان کرنے میں کمزور ہے، فخر کاکاخیل

جمعہ 18 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف صحافی فخر کاکاخیل نے کا کہنا ہے کہ افغانستان کی پاکستان کے خلاف نفرت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنا مؤقف بیان کرنے میں کمزور ہیں، ہم بتا ہی نہیں پائے کہ ہم نے افغانستان کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت نے افغانستان کے میڈیا پر بہت سرمایہ کاری کی ہے، ایران نے کی ہے لیکن ہمارے میڈیا کے لگے بندھے موضوعات ہیں باقی ملک میں کیا ہو رہا ہے اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کہا جائے کہ مؤقف بیان کرنے پر پابندی ہے تو ایسی بات بالکل نہیں، لیکن ہم میں مؤقف بیان کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہا جائے کہ ہم نے مجاہدین کی تربیت کر کے انہیں افغانستان بھیجا، لیکن کہانی اس سے بہت پہلے شروع ہوتی ہے جب سردار داؤد نے ماسکو کے کہنے پر ظاہر شاہ کا تخت الٹا اور ’پختونستان پختونستان‘ چِلانے لگا۔ سردار داؤد کے کہنے پر روس افغانستان میں داخل ہوا تو امریکا کیسے چپ بیٹھ سکتا تھا۔

فخر کاکاخیل کا کہنا ہے کہ جہاں تک قوم پرستی کی بات ہے، قوم پرست جماعتیں بھی سمجھتی ہیں کہ مثلاً افغانستان میں تاجک اور ازبک آباد ہیں تو تاجکستان اور ازبکستان کہیں کہ یہ ہمارے علاقے ہیں، ہمیں دے دو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ لیکن مقبول عام نعروں میں یہ چیز دب جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات متاثر، 30 فیصد کمی کا خدشہ

ویڈیو

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟