سوڈان میں فوج اور نیم فوجی دستے ریپیڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایس) کے مابین 15 سے جاری مسلح جھڑپوں کے بعد سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں سمیت ہزاروں غیرملکی پھنس کررہ گئے ہیں جن کے انخلا کے لیے ان کے ممالک کوشاں ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوڈان میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 400 سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ لاتعداد عمارتیں اور دکانیں بھی نذر آتش کردی گئی ہیں۔ لاکھوں افراد گھروں میں مقید ہیں جنہیں اب غذائی قلت اور پینے کے پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔
غیرملکیوں کو فضائی راستوں اور سمندر کے راستے سوڈان سے نکالا جا رہا ہے تاہم بحیرہ احمر پر واقع بندرگاہ کی مسافت دارالحکومت خرطوم سے بذریعہ سڑک 800 کلومیٹر ہے۔
امریکا و یورپ
امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی اسپیشل فورسز نے ہیلی کاپٹروں ذریعے اب تک اپنے سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو نکالا ہے لیکن یہ 100 سے کچھ کم تھے۔ جہاں تک سوڈان میں موجود دیگر امریکی شہریوں کے انخلا کا تعلق ہے انہیں وہاں سے لانے کا فی الحال امریکا کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن وہ اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک نے اتوار کے روز کہا تھا کہ برطانوی مسلح افواج نے سوڈان سے تمام سفارتی عملے اوران کے اہل خانہ کا انخلا کرلیا ہے جو کہ ایک پیچیدہ کام تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت خون ریزی کے خاتمے اور ملک میں موجود برطانوی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر راستے پرکام کررہی ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ محفوظ جگہوں میں پناہ لیں اور بتائیں کہ وہ کہاں ہیں۔
برطانوی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجیوں نے امریکا، فرانس اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشن کیا۔
فرانسیسی سفارتی ذرائع کے مطابق 100 افراد کو لے جانے والا ایک طیارہ اتوار کے روز خرطوم سے جیبوتی کے لیے روانہ ہوا تھا جبکہ اسی تعداد میں مسافروں کو لے کرایک دوسرا فرانسیسی طیارہ اڑان بھرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
اس سے قبل سوڈانی فوج اورآرایس ایف نے ایک دوسرے پرفرانسیسی قافلے پرحملے کا الزام عائد کیا تھا۔ سوڈانی فوج کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف نے قافلے پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک فرانسیسی شہری زخمی ہوا تھا۔
دوسری جانب آرایس ایف کا کہنا ہے کہ انخلا کے دوران طیاروں نے اس پرحملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ایک فرانسیسی شہری زخمی ہوا تھا اور اس نے قافلے کو اس کے ابتدائی مقام پر واپس بھیج دیا تھا۔ فرانس کی وزارت خارجہ نے حملے یا زخمی ہونے کی اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
جرمن فوج کا کہنا ہے کہ پہلا فوجی طیارہ خرطوم پہنچا ہے اور اس نے سوڈان سے قریباً 200 شہریوں کے انخلا کا آپریشن شروع کیا ہے لیکن ان کے اور دیگر ممالک کے شہریوں کے انخلا میں کچھ وقت لگے گا۔
اطالوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سوڈان سے 140 اطالوی شہریوں اور دیگر ممالک سے 60 افراد کو نکالا جائے گا۔مصر کا کہنا ہے کہ اس نے شمال میں پورٹ سوڈان اور وادی ہلاپا سے شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل اس نے خرطوم میں مقیم اپنے شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ حالات بہتر ہونے تک اپنے گھروں ہی میں مقیم رہیں۔
مصر
مصری وزرت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوڈان میں موجود اپنے 10 ہزار شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے ‘محتاط، محفوظ اور منظم’ انخلا کے عمل کی ضرورت ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق خرطوم میں ایک مصری سفارت کار فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور خلیجی ممالک
سعودی عرب نے ہفتے کے روزاپنے 91 شہریوں اورپاکستان سمیت دیگر ممالک کے قریباً 66 افراد کو بحری جہاز کے ذریعے بندرگاہ سوڈان سے بحیرہ احمر کے پار جدہ پہنچایا ہے۔
کویت کا کہنا ہے کہ وطن لوٹنے کے خواہش مند اس کے تمام شہری جدہ پہنچ چکے ہیں۔ قطرنے اپنے شہریوں کو سوڈان سے نکالنے میں مدد دینے پرسعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب سوڈان کی فوج نے آر ایس ایف پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے پورٹ جانے والے قطری سفارت خانے کے قافلے پر حملہ کیا اور لوٹ مار کی۔
دیگرممالک
خرطوم میں ماسکو کے سفیر نے روسی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ سوڈان میں تقریبا 300 روسیوں میں سے 140 جنگ زدہ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان کے انخلا کے منصوبے بنائے گئے تھے لیکن ان پر عملدرآمد ابھی ناممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خرطوم میں شدید لڑائی کے علاقے کے قریب واقع روسی آرتھوڈوکس چرچ میں ایک خاتون اور بچے سمیت قریباً 15 افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
اردن نے کہا ہے کہ اس نے قریباً 260 شہریوں کو نکالنے کے لیے چار فوجی طیارے بھیجے ہیں۔
خرطوم میں لیبیا کے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں، ان کے اہل خانہ، طالب علموں، ایئر لائن اور بینک ملازمین سمیت 83 لیبی شہری وطن واپسی کے لیے پورٹ سوڈان پہنچ چکے ہیں۔
بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی تیاریوں کے سلسلے میں ایک بحری جہاز پورٹ سوڈان اور دو فوجی طیارے جدہ بھیجے ہیں۔
تیونس نے کہا ہے کہ وہ پیر سے شہریوں کا انخلا شروع کر دے گا۔ خرطوم میں اس کے سفارت خانے نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ دارالحکومت کے ایک ہوٹل میں اکٹھے ہونے کی کوشش کریں۔
لبنان نے کہا ہے کہ وہ پورٹ سوڈان سے 51 شہریوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا بھی سوڈان میں موجود اپنے 25 شہریوں کو نکالنے کے لیے ایک فوجی طیارہ بھیج رہا ہے۔
جاپان کا کہنا ہے کہ اس کے شہریوں کو سوڈان سے لانے کے لیے تین طیارے جیبوتی پہنچ چکے ہیں۔














