پنسلوانیا کی آبی گزرگاہ میں ‘میگالوڈن’ گولڈ فش خطرہ کیوں؟

منگل 4 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست پنسلوانیا کی آبی گزرگاہ میں ‘میگالوڈن’ گولڈ فش پائی گئی ہے۔

امریکی فش اینڈ وائلڈ لائف سروس نے پالتو جانور پالنے والوں کو یاد دلایا ہے کہ وہ اپنی گولڈ فش کو آبی گزرگاہوں میں نہ چھوڑیں کیوں کہ پنسلوانیا میں محققین کو بڑے پیمانے پر’میگالوڈن‘ کا پتا چلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کی دوسری بڑی گولڈ فِش برطانیہ میں دریافت ہو گئی

یو ایس ایف ڈبلیو ایس کے مطابق ایری کاؤنٹی کے پریسک آئل میں الیکٹرو فشنگ سروے کرنے والے محققین کو بڑی گولڈ فش ملی۔

یو ایس ایف ڈبلیو ایس کا کہنا ہے کہ گولڈ فش مچھلیوں کی ایک انویسو نسل ہے، جو جھیلوں اور آبی گزرگاہوں کو گندی گندگی میں تبدیل کرسکتی ہیں، مقامی مچھلیوں سے کھانا چرا سکتی ہیں اور پانی کے معیار کو بھی خراب کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انڈس ڈولفن کو مارنے کے جرم میں 5 سال قید اور ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ

’گولڈ فش ایک سیزن میں کئی بار اپنی نسل بڑھاتی ہے اور شمالی امریکا کے بیشتر پانیوں میں ان کا کوئی قدرتی شکاری نہیں ہے جس کے باعث ان کی آبادی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے جو دوسری مچھلیوں کا شکار کرسکتی ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘