کراچی کی کشتی مسجد، جسے بچانے کے لیے اہل محلہ نے اپنے گھر گرادیے

جمعہ 7 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوں تو کراچی میں انوکھی طرز تعمیر کی مساجد لاتعداد ہیں لیکن کراچی کے علاقے لیاری میں ایک مسجد ایسی بھی ہے جو کشتی کے طرز پر بنائی گئی ہے اور یہ مسجد 2 سڑکوں کے بیچ میں بنائی گئی ہے۔

یوں کشتی مسجد کے نام سے مشہور اس مسجد کی عمر دہایوں پر محیط ہے لیکن یہ اصل میں کشتی مسجد تب بنی جب سڑک کی توسیع کے بعد معلوم پڑا کہ مسجد کی عمارت سڑک کے بیچ میں آنے سے گرادی جائے گی، ایسے میں اس مسجد کے گرد رہنے والی کچی کمیونٹی نے سڑک کی توسیع کے لیے اپنے گھروں کی قربانی دی اور مسجد کا مقام قائم رکھتے ہوئے ازسر نو تعمیر کی، جس کے لیے دوبئی میں موجود اسی علاقے کے انجینیر نے نقشہ بنوا کر بھیجا اور 3 منزلہ عمارت اہل علاقہ کے تعاون سے بنا ڈالی۔

کشتی مسجد کا آغاز اور اختتام  دشوار تھا جو کئی بار بناتے وقت گر بھی چکا تھا کیوں کہ اسے کشتی کی شکل دینے کے لیے اسکی نوک بہت ضروری تھی۔

 لیاری ایکسپریس وے پر سہراب گوٹھ سے آتے ہوئے اس مسجد کو باآسانی دیکھا جا سکتا ہے اور مسجد کو اندر سے بھی خوبصورتی سے بنایا گیا ہے جبکہ تعمیراتی کام اب بھی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر جدید سولر پینل ڈیزائن تیار، بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ

پولیس تحقیقات کے بعد فیفا ورلڈ کپ سے نکالے گئے ریفری روب ڈیپرنک چل بسے

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت، مکمل حمایت کا اعادہ

ایران کو بڑی حد تک ’پتھر کے دور‘ میں پہنچا دیا، ٹرمپ کا دعویٰ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے