دہشتگردوں سے مذاکرات کی باتیں بے معنی، سخت کارروائی کی ضرورت ہے، بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ

منگل 25 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگری دشمن ممالک کی فنڈنگ سے ہورہی ہے۔ حکومت کو دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ختم کرکے سخت مؤقف اپنانا چاہیے اور بیرونی ایجنڈے پر فتنہ پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کرنی چاہیے۔

ملکی سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی اور بدامنی پر دفاعی تجزیہ کار محمود شاہ نے وی نیوز سے تفیصلی بات چیت کی، جو خود بھی بلوچستان تعیناتی کے دوران عملی طور پر آپریشنز میں حصہ لے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ پر اتفاق رائے کے لیے اپوزیشن کو ساتھ ملائے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ

عمران خان طالبان کو مذاکرات کے نام استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہاکہ دہشتگردی اور ملک میں فتنہ پھیلانے والوں کے خلاف سیاسی قیادت ایک پیچ پر نہیں ہے، جبکہ سیاسی مقاصد کے لیے مذاکرات کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کی جماعت تیسری بار خیبرپختونخوا میں حکومت کررہی ہے، وہ طالبان سے مذاکرات کی باتیں کرتے ہیں اور قطر کی طرز پر ٹی ٹی پی کے لیے دفتر کھولنے کے خواہشمند ہیں۔ ‘وہ (عمران خان) دہشتگردوں کو مسلح ونگ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ‘

انہوں نے کہاکہ طالبان سے مذاکرات کیسے ممکن ہیں، جو افغانستان میں بیٹھ کر ملک میں دہشتگردی پھیلا رہے ہیں، علما کو نشانہ بنایا جارہا ہے، مساجد محفوظ نہیں اور ریل پر بھی حملہ کردیا جاتا ہے۔

محمود شاہ نے کہاکہ دہشتگردوں کو بھارت سے باقاعدہ فنڈنگ ہورہی ہے، اور کچھ حد تک امریکا بھی نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ دشمن ممالک کی ایما پر ملک میں دہشتگردی اور فتنہ برپا کررہے ہیں ان سے مذاکرات کیسے ممکن ہیں۔

محمود شاہ نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہاکہ حکومت نے بھی ایک مضبوط، مؤثر پالیسی اور مؤقف نہیں اپنایا، اسی کمزور مؤقف کے باعث دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے۔ اب لگ رہا ہے کہ ریاست دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر پالیسی اپنا رہی ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں دہشتگردی افغانستان سے ہو رہی ہے

بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ جو صوبے میں سیکریٹری داخلہ بھی رہے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی افغانستان سے ہورہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ٹی ٹی پی دہشتگردوں کی بھرتی افغانستان میں ہورہی ہے۔ وہ لوگ جو افغان طالبان کے لیے لڑتے رہے حکومت بننے کے بعد بے روزگار ہیں اور ٹی ٹی پی میں بھرتی ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشتگردی میں افغان باشندے ملوث ہوتے ہیں اور تفتیش میں یہ ثابت بھی ہوچکا ہے۔

افغان طالبان سخت اندرونی اختلافات کا شکار ہیں

محمود شاہ نے بتایا کہ افغان طالبان کی وہ پرانی حثیت نہیں رہی جو ملا عمر کے دور میں تھی، موجودہ سربراہ کی بات کوئی نہیں مان رہا، اور وہ سخت اندرونی اختلافات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہاکہ افغانوں کو غرور ہے کہ امریکا، روس اور دیگر ممالک کو انہوں نے شکست دی ہے، لیکن انہیں نہیں معلوم کہ افغانستان کو صرف پاکستان ہی سمجھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں بلوچستان اور کے پی پر توجہ دینے کی ضرورت، تمام جماعتیں ملک کی خاطر متحد ہو جائیں، بلاول بھٹو

انہوں نے حکومت کی جانب سے افغان باشندوں کی واپسی کے فیصلے کی حمایت کی اور کہاکہ اس سے امن و امان میں بہتری آئے گی۔

بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے مزید کیا کہا؟ جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

دیامیر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ بجلی منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارتِ اقتصادی امور نے گمراہ کن دعوؤں کو مسترد کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں