کیا انسٹاگرام اور واٹس ایپ مارک زکربرگ کی ملکیت نہیں رہیں گے؟ فیصلہ عدالت کرے گی

منگل 15 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف سوشل میڈیا کمپنی ’میٹا‘ کے بانی اور سی ای او مارک زکربرگ نے واشنگٹن کی فیڈرل عدالت میں تاریخی اینٹی ٹرسٹ مقدمے میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ اس مقدمے میں میٹا پر الزام ہے کہ اس نے انسٹا گرام اور واٹس ایپ کو اس وقت خریدا جب وہ کمپنی کے مستقبل کے حریف بننے کی صلاحیت رکھتے تھے، اور اس طرح مسابقت کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی۔

امریکی صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) نے یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔ اگر ایف ٹی سی عدالت میں اپنے دلائل میں کامیاب ہو گئی تو میٹا کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے مقبول پلیٹ فارمز کو فروخت کرے۔

مزید پڑھیں: میٹا کا روایتی فیکٹ چیکنگ ختم کرنے کا فیصلہ، نیا نظام کیا ہوگا؟

مقدمے کے دوران پیش کی گئی ایک ای میل میں زکربرگ نے خود انسٹاگرام کو واقعی خطرناک قرار دیا تھا اور لکھا تھا کہ اسی لیے ہمیں اس کے لیے زیادہ رقم ادا کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ ایف ٹی سی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میٹا نے سمجھ لیا تھا کہ حقیقی مسابقت کا سامنا کرنا مشکل ہوگا، اس لیے اس نے حریف کمپنیوں کو خریدنا زیادہ آسان راستہ سمجھا۔

میٹا کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی خریداری امریکی قانون کے تحت جائز تھی اور کمپنی نے ان پلیٹ فارمز میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس کے نتیجے میں یہ عالمی سطح پر مقبول ایپس بنیں۔ میٹا کی تمام ایپس صارفین کے لیے مفت ہیں اور مارکیٹ میں TikTok، YouTube، iMessage اور دیگر پلیٹ فارمز کے ساتھ سخت مقابلہ جاری ہے۔

مقدمے کا پس منظر:

یہ مقدمہ دسمبر 2020 میں اس وقت دائر کیا گیا تھا، جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران امریکی حکومت نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف اینٹی ٹرسٹ قوانین کی کڑی نگرانی کا آغاز کیا۔ میٹا پر الزام ہے کہ اس نے 2012 میں انسٹاگرام کو ایک ارب ڈالر میں اور 2014 میں واٹس ایپ کو 19 ارب ڈالر میں اس وقت خریدا جب دونوں پلیٹ فارمز تیزی سے مقبول ہو رہے تھے اور میٹا کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتے تھے۔

عدالت میں جاری اس مقدمے کے دوران مارک زکربرگ، ان کی سابقہ COO شیرل سینڈبرگ اور حریف کمپنیوں کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کی گواہیاں متوقع ہیں۔ یہ کیس کم از کم 8 ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ امریکی ٹیک انڈسٹری کے لیے نئی راہیں متعین کرسکتا ہے اور ممکنہ طور پر مستقبل میں بڑی کمپنیوں کے انضمام اور خریداریوں پر گہرا اثر ڈالے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے مقدمے میں اہم حکم، ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

ایران پر حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ مندی کی نذر

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں مفت علاج اور صحت کے 4 بڑے منصوبوں کا جائزہ

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟