فرانس میں نمازی کو قتل کرنے والا ملزم تاحال مفرور، شناخت ہوگئی

پیر 28 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس میں ایک مسجد کے اندر نمازی کو قتل کرنے والا ملزم تحال گرفتار نہ ہوسکا تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم کی شناخت ہوگئی ہے۔

جنوبی فرانس کے علاقے ‘لا گرانڈ کومبے’ میں یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا تھا جہاں مسجد میں اکیلے نماز پڑھنے والے مالی کے ایک مسلمان نوجوان کو نامعلوم شخص نے چاقو کے وار سے قتل کرکے بھاگ گیا تھا۔ پولیس کے مطابق قاتل نے واقعے کو اپنے فون پر بھی ریکارڈ کیا۔

ملزم نے مسلمان نوجوان پر چاقو سے 50 مرتبہ وار کیا اور جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیے: مسجد پر حملہ: کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے لیے کوئی جگہ نہیں: جسٹن ٹروڈو

خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ قاتل کی شناخت 21 سالہ بوسنیئن نژاد فرانسیسی شہری اولیویئر کے نام سے ہوئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے ایکس پر لکھا کہ نسل پرستی اور مذہب کی بنیاد پر مبنی نفرت کے لیے فرانس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے واقعے کو ‘اسلامو فوبیا’ قرار دیتے ہوئے ‘ساتھی مسلمانوں کی بھرپور حمایت’ کا اعلان کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لگژری گاڑیوں پر ٹیکس ریلیف نہیں ملے گا، متوسط طبقے کو سہولت دیں گے، مصدق ملک

پولینڈ میں ایک شخص کی اندھا دھند فائرنگ،5 افراد ہلاک، درجن سے زیادہ زخمی

ایران کے زمینی اور بحری راستوں کی نگرانی بڑھانے کے لیے امریکا کا نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

ایران کے ایٹمی راز بتانے والے کو 20 ملین ڈالر اور محفوظ پناہ دی جائے گی، امریکا کا اعلان

طالبان ترجمان ذبیع اللہ کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا، 2 ہزار دہشتگردوں کی موجودگی برقرار

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟