ایران کی اہم تجارتی بندرگاہ پر گزشتہ ماہ ہونے والے ایک مہلک دھماکے کے سلسلے میں ایک سرکاری اہلکار سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی بندرگاہ پر دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہوگئی، 3 روزہ سوگ کا اعلان
یاد رہے کہ 26 اپریل کو شاہد رجائی کی جنوبی بندرگاہ میں ایک گودی پر ہونے والے دھماکے میں کم از کم 57 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔
دھماکے کے بعد وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے متعلقہ انتظامیہ پر حفاظتی احتیاطی تدابیر کی عدم تعمیل اور غفلت سمیت کوتاہیوں کا الزام عائد کیا تھا۔ شاہد رجائی آبنائے ہرمز پر ایران کے ساحلی شہر بندر عباس کے قریب ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی پیداوار کا 5 واں حصہ گزرتا ہے۔
مزید پڑھیے: چابہار بندرگاہ چلانے کے لیے بھارت کا ایران سے معاہدہ
سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کو تحقیقاتی کمیٹی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سرکاری مینیجر اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔














